Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چینی نوجوان کو کیڑوں کی آوازیں کئی گھنٹوں تک سننا مہنگا پڑ گیا

سیکاڈا دنیا کے بلند آواز پیدا کرنے والے کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں

چین میں ایک 18 سالہ نوجوان کو چار گھنٹے تک کیڑوں کے بھنبھنانے کی مسلسل تیز آوازیں سننا مہنگا پڑ گیا اور وہ عارضی طور پر سماعت سے محروم ہوگیا۔

چینی میڈیا کے مطابق صوبہ ژیجیانگ کے شہر ننگبو میں وانگ نامی نوجوان جنگل میں کیمپنگ کے دوران کئی گھنٹوں تک حشرارت الارض میں شامل جھینگر سے مشابہہ ایک کیڑے سیکاڈا کی آوازیں سنتا رہا۔

وانگ کے مطابق دوپہر کے وقت سیکاڈا کی آوازیں اچانک زیادہ بلند ہوگئیں تاہم وہ شام تک جنگل میں موجود رہا۔ بعد ازاں اسے کانوں میں گھن گرج اور کان بند یا بھرا بھرا محسوس ہونے کی شکایت ہوئی۔

سیکاڈا کی آوازیں کم ہونے کے بعد نوجوان نے محسوس کیا کہ وہ پرندوں کی چہچہاہٹ اور اپنے موبائل فون کی نوٹیفکیشن کی آوازیں بھی نہیں سن پا رہا۔

سماعت متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر وانگ فوری طور پر اسپتال پہنچا جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس کے دونوں کانوں میں سوجن کی تشخیص کی۔ اسے ادویات دی گئیں اور کم از کم 14 دن تک تیز آوازوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔

ڈاکٹروں کے مطابق خوش قسمتی سے نوجوان کی سماعت تقریباً دو ہفتوں بعد مکمل طور پر بحال ہوگئی۔

ننگبو یونیورسٹی نمبر 1 سے منسلک اسپتال کے شعبہ ناک، کان اور گلے کے سینئر ماہر ڈاکٹر لی جی نے کہا کہ بہت سے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ قدرتی آوازیں کانوں کے لیے بے ضرر ہوتی ہیں تاہم بعض صورتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق سیکاڈا دنیا کے بلند آواز پیدا کرنے والے کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک سیکاڈا کی آواز عموماً 70 ڈیسی بل سے زیادہ نہیں ہوتی تاہم بڑی تعداد میں سیکاڈا ایک ساتھ آواز پیدا کریں تو شور کی شدت 85 ڈیسی بل سے تجاوز کرسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل 85 ڈیسی بل یا اس سے زیادہ کی آواز کے طویل عرصے تک سامنا سماعت کو نقصان پہنچانے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔