تقریباً چار سو سال قبل آسٹریلیا کے مغربی ساحل کے قریب ڈوبنے والے ایک مشہور بحری جہاز پر ہونے والی نئی تحقیق اس دور کے عالمی تجارتی نظام اور سامان کی ترسیل سے متعلق اہم حقائق سامنے لے آئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ جہاز میں موجود تعمیراتی سامان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بھی مختلف علاقوں سے سامان جمع کرکے منظم انداز میں دنیا کے دوسرے حصوں تک پہنچایا جاتا تھا۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ بحری جہاز 1629ء میں سمندر میں ڈوب گیا تھا۔ اس میں چاندی کے سکے، قیمتی جواہرات، ہزاروں اینٹیں اور عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھر موجود تھے۔
محققین نے خاص طور پر ان پتھروں کی اصلیت جاننے کے لیے جدید سائنسی طریقہ اختیار کیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ بظاہر ایک جیسے دکھائی دینے والے یہ پتھر دراصل موجودہ جرمنی کے دو مختلف علاقوں سے نکالے گئے تھے۔
دونوں علاقوں کے درمیان تقریباً 140 کلومیٹر کا فاصلہ ہے تاہم ان پتھروں کو پہلے ایک جگہ جمع کیا گیا اور پھر ایک ہی کھیپ کی صورت میں ایشیا روانہ کیا گیا۔
محققین کے مطابق یہ دریافت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس دور کی تجارتی کمپنی صرف قریبی علاقوں سے سامان حاصل نہیں کرتی تھی بلکہ مختلف مقامات سے تعمیراتی مواد اکٹھا کرکے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت دور دراز علاقوں تک پہنچاتی تھی۔
تحقیق میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ مختلف علاقوں سے آنے والا سامان پہلے ایک مرکزی مقام پر جمع کیا جاتا تھا، جہاں سے اسے بحری جہازوں کے ذریعے ایشیا بھیجا جاتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وہ اسی سائنسی طریقے سے جہاز سے ملنے والی مزید اینٹوں اور پتھروں کا بھی جائزہ لیں گے جس سے اس دور کے تجارتی راستوں، سامان کی نقل و حمل اور تعمیراتی منصوبوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
محققین کا مزید کہنا ہے کہ تقریباً چار صدیاں گزرنے کے باوجود یہ تاریخی بحری جہاز آج بھی ماضی کے عالمی تجارتی نظام کے نئے راز سامنے لارہا ہے۔




















