Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہماری کہکشاں کے مرکز میں بلیک ہول کے قریب پانی کی موجودگی کا انکشاف

ایک دم توڑتے ستارے سے پانی اور دیگر مادّے مسلسل خلا میں خارج ہو رہے ہیں، تحقیق

نئی مشاہداتی تحقیق میں ہماری کہکشاں کے مرکز میں موجود بڑے بلیک ہول کے قریب پانی اور گرد و غبار کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

ماہرین نے نئی دوربین کی مدد سے ملکی وے کہکشاں کے اندرونی حصے کا مشاہدہ کیا، جہاں انہوں نے آئی آر ایس 3 نامی ایک دم توڑتے ستارے کا تفصیلی جائزہ لیا۔

یہ ستارہ ہماری کہکشاں کے مرکز میں موجود تقریباً 40 لاکھ سورج جتنے کمیت والے بلیک ہول سے صرف 0.55 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔

آئی آر ایس 3 اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں ہے اور اس کی بیرونی تہہ تیز رفتار ہواؤں کے ذریعے خلا میں خارج ہورہی ہیں جس کے نتیجے میں اس کے گرد گرد و غبار کا ایک وسیع حصار بن گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ستارے سے خارج ہونے والے مادّے کی تہہ تقریباً 15 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے خلا میں پھیل رہی ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس ستارے کے گرد موجود گرد و غبار کا حصار تقریباً 10 ہزار فلکیاتی اکائیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک فلکیاتی اکائی زمین اور سورج کے درمیان تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے کے برابر ہوتی ہے۔

محققین کے اندازے کے مطابق یہ ستارہ کبھی کہکشاں کے مرکز سے تقریباً 16 نوری سال دور وجود میں آیا ہوگا اور بعد ازاں مرکز کی جانب منتقل ہوا۔

تحقیق کے مطابق ستارہ سورج سے تقریباً 6 گنا زیادہ کمیت رکھتا ہے اور اس کی عمر تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ سال ہوسکتی ہے۔

اگرچہ اس ستارے کی سطح کا درجہ حرارت سورج کے مقابلے میں کم ہے تاہم یہ سورج سے تقریباً 60 ہزار گنا زیادہ روشن ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے لیے سب سے اہم دریافت ستارے کے گرد پانی کی موجودگی ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ شدید تابکاری والے ماحول میں بھی پانی جیسے سالماتی مادّے باقی رہ سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق یہ دریافت اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ انتہائی بڑے بلیک ہول کے قریب موجود ستارے بھی اپنے گرد و پیش میں پانی، گرد و غبار اور دیگر کیمیائی مادّے شامل کرتے رہ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ستارے کی آخری زندگی کے دوران خارج ہونے والی یہ مادّی تہہ سیکڑوں سال کے وقفے سے بنتی رہی ہوں گی اور ان میں سے کچھ کا تعلق تقریباً 5 ہزار سال پرانے اخراج سے ہوسکتا ہے۔