Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کون سی غذائیں جسمانی مہک کو زیادہ دلکش بناتی ہیں اور کون سی نہیں؟

اصل میں پسینے کی کوئی بو نہیں ہوتی جلد پر موجود بیکٹیریا اسے بدبو یا خوشبو میں تبدیل کرتے ہیں

ہر انسان کی اپنی ایک منفرد جسمانی مہک ہوتی ہے اس خاص خوشبو میں جینیات، ہارمونز، صحت اور صفائی اہم کردارادا کرتے ہیں اور انہی سے یہ مہک متاثر بھی ہوتی ہے تاہم ایک نئی تحقیق میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔

حال ہی میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق ہماری غذا بھی اس بات پر اثر ڈال سکتی ہے کہ ہم دوسروں کو کتنے خوشبودار یا ناگوار محسوس ہوتے ہیں کیونکہ یہ جسمانی بو کو بہتر یا بدتر بنا سکتی ہے۔

غذا دوطریقوں سے جسمانی بو پیدا کرتی ہے پہلا ہاضمے کے ذریعے جبکہ دوسرا پسینے کے ذریعے۔

ہاضمہ

 آنتوں میں بیکٹیریا مختلف گیسیں پیدا کرتے ہیں جو سانس کے ذریعے خارج ہوتی ہیں۔

پسینہ

 خوراک کے اجزا خون میں شامل ہو کر پسینے کے ساتھ جلد سے خارج ہوتے ہیں۔

غذا جب معدے میں جا کرہضم ہوتی ہے تو آنتوں کے بیکٹیریا مختلف مرکبات پیدا کرتے ہیں جو سانس کے ذریعے باہر خارج ہوتے ہیں یہی عمل اکثر منہ کی ناگوار مہک کا سبب بنتا ہے۔

جلد اور خوشبو

اصل میں پسینے کی کوئی بو نہیں ہوتی جلد پر موجود بیکٹیریا اسے بدبو یا خوشبو میں تبدیل کرتے ہیں یوں کہا جائے ےو بے جانہ ہوگا کہ غذا ان بیکٹیریا کے ماحول کو بدل دیتی ہے۔

سلفر کا کردار

کئی تیز بو والی غذاؤں میں سلفر موجود ہوتا ہےجب یہ جسم میں ٹوٹتا ہے تو سانس اور جلد کے ذریعے خارج ہو کر تیز بو پیدا کرتا ہے۔

وہ غذائیں جو خوشبو بہتر بنا سکتی ہیں

لہسن

اگرچہ لہسن منہ کی بدبو کے لیے بدنام ہے مگر تحقیق کے مطابق لہسن کھانے والے مردوں کی جسمانی خوشبو بعض اوقات زیادہ پرکشش محسوس کی گئی ہے ماہرین کے مطابق اس کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بہترصحت کی ضامن ہے۔

پیاز

پیاز میں موجود سلفر منہ کی ناگوار مہک کا سبب بن سکتا ہے تاہم ان میں اینٹی آکسیڈنٹس مجموعی جسمانی کیمسٹری بہتر بناتے ہیں۔

پھل

زیادہ پھل اور سبزیاں کھانے والے افراد کی خوشبو کو پھولوں جیسی مہک قرار دیا گیا ہے یہ اندرونی صحت کی بھی علامت سمجھی جاتی ہے۔

کیروٹینائڈ والی غذائیں

گاجر، پپیتا اور دیگر رنگین پھل و سبزیاں کیروٹینائڈز سے بھرپور ہوتی ہیں یہ نہ صرف جلد کو صحت مند رنگت دیتے ہیں بلکہ جسمانی خوشبو کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

سبزیوں سے بھرپور غذا جلد کے بیکٹیریا اور پسینے کی ساخت کو بہتر بناتی ہے جس سے جسمانی خوشبو زیادہ بہتر محسوس ہوتی ہے۔

وہ غذائیں جو جسمانی مہک کو ناگوار بنا سکتی ہیں

بروکلی، بند گوبھی اور برسلز اسپراؤٹس یہ سبزیاں سلفر سے بھرپور ہوتی ہی جس کی وجہ سے پسینے میں انڈے جیسی یا تیز بو پیدا ہو سکتی ہے۔

زیادہ کاربوہائیڈریٹس

ریفائنڈ کاربز جیسے سفید آٹا اور میٹھی اشیا زیادہ کھانے والوں کے پسینے کو کم خوشگوار قرار دیا گیا ہے۔

گوشت اور مچھلی

گوشت اور مچھلی جسم میں ایسے مرکبات پیدا کرتے ہیں جو پسینے کے ذریعے خارج ہو کر تیز بو پیدا کر سکتے ہیں۔

لوبیا

لوبیا میں موجود سلفر اور نائٹروجن مرکبات کچھ افراد میں جسمانی بو بڑھا سکتے ہیں اگرچہ مناسب طریقے سے بھگونے اور پکانے سے اس اثر کو کم کیا جا سکتا ہے۔

کافی

کیفین پسینہ بڑھاتی ہے اور زیادہ پسینہ بیکٹیریا کی افزائش میں اضافہ کرتا ہے جس سے جسمانی بو بڑھ سکتی ہے بعض تحقیقات میں انسانی پسینے میں کیفین کے آثار بھی پائے گئے ہیں۔