ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ محض بصری فن پاروں کا مشاہدہ بھی ذہنی صحت، زندگی کے مفہوم اور ذاتی ترقی کے احساس کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق آرٹ دیکھنے کے مثبت اثرات صرف عجائب گھروں اور آرٹ گیلریوں تک محدود نہیں بلکہ ہسپتالوں، کلینکس، گھروں اور یہاں تک کہ ورچوئل رئیلٹی کے ماحول میں بھی دیکھے گئے ہیں۔
سائنسی جریدے پوزیٹو سائیکالوجی کے حوالے سے سائنس ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق محققین نے اس جامع جائزے میں 38 سابقہ مطالعات کا تجزیہ کیا جن میں مجموعی طور پر 6,805 افراد شامل تھے۔ تحقیق میں ایڈورڈ مونک کی معروف پینٹنگ ’دی اسکریم‘ اور ونسنٹ وین گو کی ’دی اسٹاری نائٹ‘ سمیت جدید اور ہم عصر فن پاروں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مختلف اقسام کے آرٹ کے مثبت اثرات
تحقیق میں سامنے آیا کہ فن پاروں کا مشاہدہ مثبت ذہنی صحت سے منسلک ہے جس میں زندگی کے مفہوم کا زیادہ احساس، ذاتی نشوونما اور اپنے بارے میں مثبت نقطہ نظر شامل ہیں۔
محققین کے مطابق یہ فوائد کسی مخصوص طرزِ فن تک محدود نہیں۔ حقیقی اور تجریدی پینٹنگز، فوٹوگرافی، مجسمے، جدید و ہم عصر آرٹ اور مختلف آرٹ تنصیبات بھی ان تجربات کا حصہ تھیں۔
عجائب گھروں سے ہسپتالوں تک
مطالعے میں آرٹ کے اثرات مختلف ماحول میں جانچے گئے جن میں عجائب گھر، آرٹ گیلریاں، کلینکس اور ہسپتال شامل ہیں۔ ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے فن پاروں کا مشاہدہ کرنے والے افراد میں بھی ایسے مثبت اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
مرکزی محقق میکنزی ٹروب کے مطابق آرٹ کو اکثر محض تفریح یا عیاشی سمجھا جاتا ہے تاہم تحقیق کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ فن پاروں کا مشاہدہ مثبت ذہنی صحت کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے، چاہے اسے تفریحی سرگرمی کے طور پر کیا جائے یا صحت سے متعلق باقاعدہ اقدامات کے تحت۔
کم لاگت اور آسانی سے دستیاب ذریعہ
محققین نے صحت کے اداروں اور پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ ذہنی صحت کے فروغ کی حکمت عملیوں میں آرٹ کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کے مطابق بصری فن روزمرہ زندگی میں نسبتاً آسانی سے دستیاب اور کم لاگت ذریعہ ہے، جسے صحتِ عامہ کے مختلف پروگراموں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے اسکول آف سائیکالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر کلیئر ہولن کے مطابق اگرچہ ذہنی صحت کے لیے آرٹ کے فوائد پر پہلے بھی تحقیق ہوچکی ہے تاہم محض فن پاروں کو دیکھنے کے نفسیاتی اثرات پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔
صحتِ عامہ میں آرٹ کا بڑھتا کردار
محققین کے مطابق بصری فن عجائب گھروں اور گیلریوں کے علاوہ ہسپتالوں اور گھروں میں بھی دستیاب ہے اس لیے اس کے نفسیاتی اثرات کو سمجھنا روزمرہ زندگی میں آرٹ کے ذریعے ذہنی صحت کو فروغ دینے کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت بھی روایتی طبی نگہداشت کے ساتھ تخلیقی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے کی سفارش کرچکا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ جائزے کے نتائج مستقبل میں مزید جامع تحقیقات کی بنیاد بن سکتے ہیں جن کے ذریعے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ذہنی صحت کے مختلف پہلوؤں کے لیے آرٹ کی کون سی شکلیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔




















