ایک نئی تحقیق نے بچوں میں موٹاپے سے متعلق 42 سال پرانے طبی نظریے پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 6 سال کی عمر میں بچوں کے باڈی ماس انڈیکس میں ہونے والا اضافہ ضروری نہیں کہ جسم میں چربی بڑھنے کی علامت ہو۔
محققین کے مطابق یہ اضافہ دراصل بچوں کے جسم میں عضلات اور دیگر صحت مند بافتوں کی قدرتی نشوونما کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ موٹاپے کی وجہ سے۔
تحقیق فن لینڈ کی یونیورسٹی آف ایسٹرن فن لینڈ کے ماہرین نے کی، جس میں امریکا کے 2 سے 19 سال عمر کے 2,410 بچوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ 6 سال کی عمر کے بعد بچوں کا بی ایم آئی بڑھنے لگتا ہے لیکن جسم میں چربی اسی تناسب سے نہیں بڑھتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 42 برس سے یہ سمجھا جاتا رہا کہ کم عمری میں بی ایم آئی کا دوبارہ بڑھنا مستقبل میں موٹاپے کی علامت ہے تاہم نئی تحقیق اس نظریے کی تائید نہیں کرتی۔
محققین کے مطابق بچوں کی اس قدرتی نشوونما کو بیماری یا موٹاپے کی ابتدا سمجھنے کے بجائے اسے جسم کی معمول کی ترقی کا حصہ تصور کیا جانا چاہیے۔



















