Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آنکھوں کی نایاب بیماری کے علاج میں اہم پیش رفت، انقلابی چپ تیار

اس ٹیکنالوجی کا نام پریما ہے یہ ایک انتہائی چھوٹی سی چپ ہے جسے آنکھ کے ریٹینا کے نیچے لگایا جاتا ہے

دنیا کی ایک بڑی آبادی بینائی سے متعلق مختلف امراض میں مبتلا ہیں انہیں میں جیوگرافک ایٹروفی نامی بیماری بھی شامل ہے یہ مرض ریٹینا کو متاثر کرتا جس سے بینائی آہستہ آہستہ کم ہوجاتی ہے۔

تاہم اب ایک نئی ٹیکنالوجی ایسے افراد کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے جن کی نظر جیوگرافک ایٹروفی کی وجہ سے بہت زیادہ کمزور یا ختم ہو گئی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا نام پریما ہے یہ ایک انتہائی چھوٹی سی چپ ہے جسے آنکھ کے ریٹینا کے نیچے لگایا جاتا ہے۔

 خیال رہے کہ اس چپ کو یورپ کے 30  ممالک میں استعمال اور فروخت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے مریض کو ایک خاص قسم کی عینک پہنائی جاتی ہے۔ عینک میں ایک کیمرا لگا ہوتا ہے جو سامنے موجود چیزوں کو دیکھتا ہے۔ پھر عینک اس تصویر کو خاص قسم کی انفراریڈ روشنی کے ذریعے آنکھ میں لگی چھوٹی چپ تک پہنچاتی ہے۔

چپ اس روشنی کو برقی سگنلز میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ سگنلز آنکھ کے بچے ہوئے خلیوں کو متحرک کرتے ہیں اور پھر معلومات دماغ تک پہنچتی ہیں۔ اس طرح مریض دوبارہ کچھ حد تک چیزیں دیکھ اور پڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موجودہ سلیکان چپس سے کئی زیادہ تیز مواد دریافت

اس ٹیکنالوجی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ چپ کو بیٹری یا تار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ روشنی ہی اسے توانائی اور تصویر دونوں فراہم کرتی ہے۔

ابتدائی طور پر ٹیکنالوجی کا تجربہ 38 مریضوں پر کیا گیا جبکہ 32 مریضوں نے ایک سال کا ٹیسٹ مکمل کیا۔

نتائج حیران کن تھے 38  افراد میں سے 26 یعنی تقریباً 81 فیصد کی نظر میں واضح بہتری نوٹ کی گئی۔ کچھ مریض گھر پر دوبارہ حروف، اعداد اور الفاظ پڑھنے کے قابل ہوئے جبکہ ایک مریض کی نظر میں اوسطاً تقریباً پانچ آئی چارٹ لائنوں جتنی بہتری دیکھی گئی۔

یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ پریما مکمل نارمل نظر واپس نہیں لاتا۔ یہ صرف کچھ حد تک مرکزی نظر بحال کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ دوسری جانب آپریشن کے اپنے کچھ خطرات بھی ہیں۔

یورپ میں منظوری ملنے کے بعد ڈاکٹر اہل مریضوں کو یہ امپلانٹ لگانا شروع کر سکتے ہیں جبکہ پہلی سرجری جرمنی میں متوقع ہے۔

البتہ امریکہ میں ابھی اسے عام استعمال کی اجازت نہیں ملی۔ وہاں پریما کو اہم ریگولیٹری حیثیت تو حاصل ہوئی ہے لیکن اسے فروخت کرنے کے لیے مزید منظوری درکار ہے