Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیٹو ڈائیٹ سے وزن کم، مگر میٹابولزم پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں

کیٹو ڈائیٹ میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار انتہائی کم جبکہ چربی کی مقدار زیادہ رکھی جاتی ہے

دنیا بھر میں لوگوں کی بڑی تعداد کیٹوجینک یا کیٹو ڈائیٹ وزن کم کرنے اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے لیے اپناتے ہیں تاہم ایک نئی طویل مدتی تحقیق میں اس کے میٹابولک نقصانات سامنے آئے ہیں۔

یونٹاہ ہیلتھ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی جانے والی یہ تحقیق سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی۔ تحقیق میں کیٹو ڈائیٹ کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے جگر کی صحت، خون میں چربی، بلڈ شوگر اور انسولین کے ردعمل کا جائزہ لیا گیا۔

کیٹو ڈائیٹ میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار انتہائی کم جبکہ چربی کی مقدار زیادہ رکھی جاتی ہے جس کے نتیجے میں جسم توانائی کے لیے چربی استعمال کرتے ہوئے کیٹونز پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ غذا وزن میں کمی کے لیے مقبول ہے لیکن اس کے طویل مدتی اثرات پر اب بھی تحقیق جاری ہے۔

چوہوں پر طویل مدتی تجربہ

محققین نے بالغ نر اور مادہ چوہوں کو مختلف غذائی گروپس میں تقسیم کیا اور نو ماہ سے زائد عرصے تک ان کی نگرانی کی۔ اس دوران ان کے وزن، جسمانی ساخت، خون میں چربی، جگر کے افعال، بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج کے مطابق کیٹو ڈائیٹ استعمال کرنے والے چوہوں کے وزن میں زیادہ چکنائی والی مغربی غذا کے مقابلے میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا، تاہم ان کے جسم میں جو اضافی وزن پیدا ہوا وہ زیادہ تر چربی کی صورت میں تھا، نہ کہ پٹھوں کی شکل میں۔

تحقیق کا اہم مشاہدہ یہ تھا کہ کیٹو ڈائیٹ پر موجود چوہوں میں وزن زیادہ نہ بڑھنے کے باوجود فیٹی لیور یعنی جگر میں چربی جمع ہونے کی علامات پیدا ہوئیں۔ نر چوہوں میں جگر کو پہنچنے والا نقصان زیادہ نمایاں تھا، جبکہ مادہ چوہوں میں اس کے خلاف نسبتاً زیادہ مزاحمت دیکھی گئی۔

کاربوہائیڈریٹس واپس لینے پر بلڈ شوگر میں اضافہ

تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں کیٹو ڈائیٹ پر چوہوں میں بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح کم دیکھی گئی تاہم جب انہیں دوبارہ کاربوہائیڈریٹس دیے گئے تو بلڈ شوگر میں شدید اور دیرپا اضافہ سامنے آیا۔

محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل عرصے تک انتہائی کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا لینے کے بعد جسم کے گلوکوز سے نمٹنے کے طریقہ کار میں تبدیلیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ تحقیق میں انسولین بنانے والے لبلبے کے خلیوں کی کارکردگی میں بھی کمی دیکھی گئی۔

تاہم کیٹو ڈائیٹ ترک کرنے کے بعد ان میں سے بعض میٹابولک تبدیلیوں میں بہتری بھی دیکھی گئی۔

انسانوں پر نتائج لاگو کرنے میں احتیاط ضروری

محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے اس لیے اس کے نتائج کو براہ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ نتائج کیٹو ڈائیٹ کے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق صرف وزن میں کمی کو میٹابولک صحت میں بہتری کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک کیٹو ڈائیٹ اختیار کرنے والے افراد کو اپنی مجموعی صحت، جگر کے افعال، خون میں چربی اور بلڈ شوگر سمیت دیگر عوامل پر بھی توجہ دینی چاہیے۔