گھر سے باہر کھلی فضا میں کھیلنا بچوں کی ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے تاہم ایک نئی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں آج کل والدین اپنے بچوں کو پہلے کی نسبت زیادہ دیر سے اکیلے باہر کھیلنے کی اجازت دیتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق بچے اوسطاً 10.8 سال کی عمر میں اکیلے باہر کھیلنا شروع کرتے ہیں جبکہ ان کے والدین کو اپنے بچپن میں تقریباً 9.7 سال کی عمر میں یہ آزادی مل گئی تھی۔
اس کے علاوہ بچے اب گلی میں ہفتے میں صرف 25 منٹ کھیلتے ہیں جبکہ ان کے والدین اور دادا دادی یا نانا نانی کے زمانے میں بچے روزانہ کئی گھنٹے باہر کھیلتے تھے۔
تحقیق میں تقریباً 2,000 والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد سے سوالات کیے گئے۔ ان میں سے 56 فیصد نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو خود سے کھیلنے کی اجازت اس عمر میں دیتے ہیں جو ان کے اپنے بچپن سے زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی کئی وجوہات ہیں جیسے بچوں کے کھیلنے کے لیے مناسب جگہوں کی کمی، موبائل فون، ٹی وی اور دیگر اسکرینز کا زیادہ استعمال، سڑکوں پر ٹریفک اور حادثات کا خطرہ والدین کے پاس بچوں کی نگرانی کے لیے کم وقت ہونا شامل ہیں۔
پروفیسر ہیلن ڈوڈ کا کہنا ہے کہ آج کے بچے باہر کھیلنے اور آزادی حاصل کرنے کے ان مواقع سے محروم ہو رہے ہیں جو پچھلی نسلوں کو حاصل تھے ان کے مطابق ہمیں بچوں کو زیادہ محفوظ اور بہتر ماحول میں باہر کھیلنے کے مواقع دینے چاہییں۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باہر کھیلنے سے بچوں کی ذہنی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔ جو بچے کم عمری یعنی 2 سے 4 سال کی عمر میں زیادہ باہر کھیلتے ہیں ان کے 8 سال کی عمر تک اچھی ذہنی صحت رکھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اگر بچہ ہفتے میں ایک دن زیادہ باہر کھیلے تو اس کی صحت مند ذہنی کیفیت برقرار رہنے کے امکانات تقریباً 6 سے 14 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پارکوں اور کھیلنے کی جگہوں پر غیر ضروری پابندیاں بھی کم کی جانی چاہییں، مثلاً ’’گھاس پر نہ چلیں‘‘ یا ’’گیند سے نہ کھیلیں‘‘ جیسے بورڈ ہٹا کر بچوں کو کھیلنے کی ترغیب دی جائے۔




















