نئی تحقیق میں 500 سے زائد پیشوں کا جائزہ لینے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ تابکاری سے متعلق کینسر کے باعث اموات کا تناسب ہوائی جہاز کے عملے میں سب سے زیادہ ہے۔
تحقیق کے مطابق ہوائی جہاز کے عملے کو بلندی پر موجود خلائی شعاعوں کے باعث زمین کے مقابلے میں زیادہ تابکاری کا سامنا ہوتا ہے۔
امریکا میں 503 مختلف پیشوں سے وابستہ 1 کروڑ 27 لاکھ افراد کے 2020 سے 2024 تک کے اموات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے کینسر کی اقسام کو تابکاری سے ممکنہ طور پر متعلق اور دیگر کینسر میں تقسیم کرکے مختلف پیشوں کے درمیان خطرے کا موازنہ کیا۔
تحقیق کے مطابق فضائی میزبان تابکاری سے متعلق کینسر کے باعث اموات کے تناسب میں پہلے جب کہ طیاروں کے پائلٹ دوسرے نمبر پر رہے۔
محققین کے مطابق فضائی میزبانوں میں تابکاری سے متعلق کینسر کا خطرہ دیگر پیشہ ور گروہوں کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ جب کہ پائلٹوں میں یہ خطرہ 36 فیصد زیادہ تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ فضائی عملے میں مجموعی طور پر کینسر کا خطرہ دیگر پیشوں کے مقابلے میں زیادہ نہیں تھا تاہم تابکاری سے متعلق کینسر کی صورت میں فضائی میزبان اور پائلٹ نمایاں طور پر زیادہ خطرے میں رہے۔
ماہرین کے مطابق طیارے میں سفر کے دوران زمین کے مقابلے میں خلائی شعاعوں سے زیادہ تابکاری کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ زمین کا ماحول خلا سے آنے والے زیادہ توانائی والے ذرات کو جذب کرکے ان کے اثرات کم کرتا ہے۔
بلندی بڑھنے کے ساتھ ماحول کی حفاظتی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے جب کہ پرواز میں گزارا جانے والا وقت اور جغرافیائی عرض بلد بھی تابکاری کی مقدار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق پائلٹ اور فضائی میزبان سالانہ اوسطاً 3 سے 6 ملی سیورٹ تک خلائی تابکاری کا سامنا کرتے ہیں جب کہ سال میں 10 مرتبہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر کرنے والے مسافر کو تقریباً 0.4 ملی سیورٹ تابکاری ملتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ فضائی عملے میں سامنے آنے والے کینسر کی وجہ خلائی شعاعیں ہی ہیں تاہم نتائج پیشہ ورانہ تابکاری اور کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق فضائی عملے کو بالائے بنفشی شعاعوں اور رات کی شفٹوں کے باعث جسمانی نظام میں پیدا ہونے والی بے ترتیبی جیسے دیگر عوامل کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔
محققین نے فضائی عملے کے لیے تابکاری سے متعلق حفاظتی اقدامات پر غور کرنے اور باقاعدہ طبی معائنے کے دوران آسمان میں گزارے گئے برسوں کو بھی مدنظر رکھنے کی تجویز دی ہے۔




















