Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

میٹھے مشروبات اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق کا نیا انکشاف

تحقیق میں مصنوعی مٹھاس والے مشروبات اور معدے کے کینسر کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں ملا

میٹھے مشروبات کے نقصانات سے کون واقف نہیں یہ جسم میں کئی امراض کا سبب بنتے ہیں تاہم ان کا روازنہ استعمال معدے کے کنسر کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے یہ بات حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

اس تحقیق میں محققین نے 112,000 سے زیادہ افراد کا ڈیٹا کا تجزیہ کیا جس میں 1986 سے 2022 تک کے صحت اور خوراک سے متعلق ریکارڈ شامل تھے۔ اس دوران معدے کے کینسر کے 278 کیسز سامنے آئے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ کم از کم ایک میٹھا مشروب، جیسے سافٹ ڈرنک، لیمونیڈ، پنچ یا اسپورٹس ڈرنک پیتے تھے، ان میں معدے کے کینسر کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 2.45 گنا زیادہ تھا جو میٹھے مشروبات نہیں پیتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بچپن میں میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جوانی میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

خواتین میں یہ خطرہ تقریباً تین گنا جبکہ مردوں میں تقریباً دو گنا زیادہ دیکھا گیا۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میٹھے مشروبات براہِ راست معدے کے کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ یہ صرف دونوں چیزوں کے درمیان ایک تعلق ظاہر کرتی ہے۔ موٹاپا، انسولین میں خرابی، جسم میں سوزش اور دیگر عوامل بھی اس خطرے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تحقیق میں مصنوعی مٹھاس والے مشروبات اور معدے کے کینسر کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں ملا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ میٹھے مشروبات معدے کے کینسر کے خطرے کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں۔