Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خلا میں سیٹلائٹس کی آلودگی میں کمی کے لیے مرکز قائم

ماہرین فلکیات نے خبردار کیا ہے کہ خلا میں اسپیس ایکس کے اسٹار لنکس، ایمیزون کے کوئپر اور دیگر سیٹلائٹس کے ہجوم علم فلکیات ( اجسام فلکی کا مطالعہ کرنے والا ایک سائنسی علم ) کے لیے روشنی کی آلودگی سے زیادہ بڑے خطرا بن گئے ہیں۔

ماہرین فلکیات کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل یونین ( آئی اے یو) نے ماہرین فلکیات، میگا کانسٹیلیشن کے فراہم کنندگان اور ریگولیٹرز کو مربوط کرنے کے لیے ایک نیا کانسٹیلیشن مرکز لانچ کردیا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اس وقت خلا میں صرف اسپیس ایکس کے ہی 2 ہزار اسٹارلنک سیٹلائٹس موجود ہیں اور آنے والے چند سالوں میں کمپنی 42 ہزار سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اور یہ صرف ایک کمپنی کے اعداد و شمار ہیں۔ جب کہ ایمیزون کے مالک جیف بیزوز بھی اس دوڑ میں کوئپر سیٹلائٹ کی مدد سے میدان میں آگئے ہیں۔

The streak from a Starlink satellite appears in this image of the Andromeda galaxy, taken by the Zwicky Transient Facility, or ZTF, during twilight on May 19, 2021. The image shows only one-sixteenth of ZTF's full field of view

اس بابت آئی اے یو کے جنرل سیکریٹری اور نئے مرکز کے ڈائریکٹر پیرو بینوینوتی کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹس جدید فلکیات کے لیے ایک بڑا خطرہ بن رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم کوئپر اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کو مختلاف تجاویز کے ذریعے سیٹلائٹس کی روشنی کے اثرات کو کم کرنے ترغیب دینا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ اگر وہ اپنے سیٹلائیٹس پر ایسا رنگ کردیں جس سے سورج کی روشنی کم منعکس ہو تو اس سے بھی کافی حد تک اثر پڑے گا۔

اور زمین کے ساتھ ساتھ خلا میں بھی روشنی کی آلودگی کسی حد تک کم ہوسکے گی۔

متعلقہ خبریں