Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

یمن کا بحران فوجی نہیں بلکہ سفارتی حل کا متقاضی ہے، عباس عراقچی

ایران کی یمن اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات میں تعمیری کردار کی پیشکش۔

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ یمن اور باب المندب کی موجودہ صورتحال کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ یمن میں جاری بحران کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے جب کہ اس تنازع کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ برسوں سے جاری علاقائی اختلافات ہیں۔

انہوں نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے لیے ایران کی جانب سے تعمیری کردار ادا کرنے کی بھی پیشکش کی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بیرونی فوجی مداخلت نے یمن کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ خطے کے تنازعات کا مستقل حل صرف سیاسی مفاہمت اور سفارتی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی شقیں واضح اور غیر مبہم تھیں تاہم امریکا نے متبادل بحری راستہ کھول کر معاہدے کی روح کے خلاف اقدام کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایرانی بحری راہداری استعمال کرنے والے بحری جہازوں کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دی جس سے اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچا۔ امریکی اقدامات سے نیک نیتی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران نے امریکی اعتراضات پر براہ راست اور ثالث ممالک کے ذریعے بھی بات چیت کی تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ امریکا کشیدگی بڑھانا چاہتا تھا یا آبنائے ہرمز میں ایران کے کردار کو محدود کرنا اس کا مقصد تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ کے بعد خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں کچھ کشیدگی فطری امر ہے تاہم ایران اپنے ہمسایہ ممالک سے دشمنی کا خواہاں نہیں اور اختلافات صرف چند شکایات تک محدود ہیں۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ خطے کی سلامتی بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے علاقائی تعاون کے ذریعے یقینی بنائی جانی چاہیے۔ جنگ کے دوران وہ ممالک نسبتاً زیادہ محفوظ رہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود نہیں تھے۔

متعلقہ خبریں