متحدہ عرب امارات میں ددنیا کی پہلی فلائنگ کار ریس ہونے جا رہی ہے جس میں بیش قیمت فلائنگ کاریں حصہ لیں گی۔
تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات اپریل 2024 میں دنیا کی سب سے بڑی خودمختار کار ریسنگ کی میزبانی کرنے کے لئے تیار ہے ، رہائشیوں اور ریسنگ کار کے شوقین افراد کو بھی دنیا کی پہلی فلائنگ کار ریس دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔
7.34 ملین درہم کی قیمت والی اس گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار 250 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی فلائنگ ریسنگ کار پروڈیوسر مکاؤ فلائٹ کے چیف ایگزیکٹو کرسچن پینیو نے ایک اخبار کو بتایا کہ اس کا مقصد حقیقی فلائنگ ریسنگ کار چیمپیئن شپ بنانا ہے۔
کرسچن پینیو کے مطابق متحدہ عرب امارات فلائنگ کار ریس کی میزبانی کے لئے سرفہرست ممکنہ امیدواروں میں سے ایک ہے۔
فرانسیسی کمپنی، جو یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئربس سے الگ ہونے کے بعد آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے، نے اس سال کے اوائل میں سی ای ایس 2023 میں فلائنگ ریسنگ کار کی نقاب کشائی کی۔

فلائنگ ریسنگ کار کی قیمت 20 لاکھ ڈالر (7.34 ملین درہم) رکھی گئی ہے جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 250 کلومیٹر فی گھنٹہ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج صفر ہے۔
سنگل سیٹر کار ریسنگ چیمپیئن کے دوران زمین کی سطح سے صرف 4-5 میٹر کی بلندی پر پرواز کرے گی ، جس سے شائقین کو ریس دیکھنے اور لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔
پہلی ریس میں، پنیو کو توقع ہے کہ 8 سے 10 شرکاء کے درمیان ہوں گے.
گزشتہ ماہ دبئی میں گیٹیکس ٹیکنالوجی نمائش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ ابوظہبی 28 اپریل 2024 کو پہلی بار خودکار گاڑیوں کی ریسنگ کی میزبانی کرے گا جس میں تقریبا 10 ادارے حصہ لیں گے۔
یہ خودمختار کاروں کی دنیا کی سب سے بڑی ریس ہوگی جہاں ریسنگ ڈرائیورز کے بجائے کوڈرز ابوظہبی میں یاس مرینا کے فارمولا ون ریسنگ ٹریک پر مقابلہ کریں گے۔
فرانسیسی کمپنی میکا فلائٹ نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ریڈ بل کے ساتھ شراکت داری کی ہے.
فرانسیسی کمپنی میکا فلائٹ نے کہا کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ہمیں 2025 کے آخر تک فلائنگ ریسنگ کار چیمپیئن شپ منعقد کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔
میکا فلائٹ کے مطابق پہلی ریس دبئی یا متحدہ عرب امارات میں ہوسکتی ہے جبکہ سعودی عرب، کویت اور بحرین نے بھی اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















