اسلام آباد: گزشتہ دن اور رات پاکستان کی قیادت کے لیے نہایت اہم اور مصروف رہے، اس دوران امریکا، ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے مسلسل رابطے کیے گئے جب کہ چین اور روس کے ساتھ بھی دن میں کئی بار مشاورت کی گئی۔
حکومتی حلقوں کے مطابق یہ رابطے سول اور عسکری دونوں سطحوں پر جاری رہے۔ پہلا مرحلہ منگل کی صبح شروع ہو کر تقریباً 10 بجے تک جاری رہا۔
دوسرا مرحلہ شام 6 بجے سے رات 9:30 بجے تک مکمل ہوا جب کہ آخری اور فیصلہ کن مرحلہ رات 11:45 پر شروع ہو کر صبح 4 بجے تک جاری رہا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اس عمل میں براہ راست شریک رہے۔
اس کے علاوہ وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں نے بھی پس پردہ اہم کردار ادا کیا، تمام عمل کو انتہائی رازداری، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی منظرنامے پر نمایاں حیثیت اختیار کرنے میں کامیاب ہوا۔
پاکستان دنیا میں امن کا پیامبر بن گیا
پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے جسے عالمی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں اعلان کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران میں تباہی روکنے کی درخواست کی تھی۔
پاکستان کی عالمی سفارت کاری میں بڑی کامیابی
پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں متوقع ہیں جو وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہوں گے، ان مذاکرات کا مقصد خطے میں مستقل جنگ بندی اور قیامِ امن کے لیے ابتدائی بات چیت کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی تو جنگ بندی کے دائرہ کار اور مذاکرات کی مدت میں توسیع بھی ممکن ہے تاہم اس پیش رفت کو پاکستان کی سول و عسکری قیادت کے مؤثر اشتراک اور فعال سفارت کاری کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی
پاکستان کے خاموش مگر مؤثر سفارتی کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے جہاں مختلف عالمی رہنماؤں نے حالیہ پیش رفت پر اسلام آباد کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے وہ اپنے برادر ملک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل اور سنجیدہ کوششیں کیں۔
انکا کہنا تھا کہ آئندہ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت ممکن ہوگی تاہم یہ عمل ایران کی مسلح افواج کے ساتھ رابطے اور مخصوص تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جائیں تو ایرانی افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔
دوسری جانب جین میریٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے قیام میں پاکستان کا کردار نہایت اہم رہا۔
انہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کی مؤثر اور خاموش سفارت کاری کا نتیجہ قرار دیا۔
ادھر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کو سوشل میڈیا پر مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کامیابی کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن بنانے میں پاکستان اور اس کی قیادت نے کلیدی کردار ادا کیا۔
ملائیشین وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک اور جرات مندانہ سفارت کاری نے اس پیش رفت کو ممکن بنایا جب کہ تمام فریقین سے بلا خوف و امتیاز بات کرنے کی پاکستان کی آمادگی مسلم یکجہتی اور عالمی ذمہ داری کی اعلیٰ مثال ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملائیشیا اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون اور حمایت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
عالمی سطح پر ملنے والی یہ پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔















