ڈیلس میں کورونا کی نئی قسم اومیکرون کی موجودگی کا انکشاف

Web Desk

08th Dec, 2021. 12:40 am
اومیکرون

ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے بعد ڈیلس شہر میں بھی کورونا کی نئی قسم اومیکرون کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

ہیوسٹن میں اومیکرون سے متاثرہ مریض ہیرس کاوئنٹی کے علاقے کی ایک لڑکی  بتائی گئی ہے جس کے ویکسین لگی ہوئی تھی جبکہ ہیوسٹن کے ویسٹ واٹر ٹریٹمینٹ کے 8 پلانٹس میں بھی اومیکرون وائرس کا پتہ چلا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ نیا وائرس ہیوسٹن میں پھیل رہا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے باعث ہیوسٹن کی ایک جیل کے باہر  انسانی فضلہ میں بھی نئے وائرس اومیکرون کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہےْ

معتبر امریکی ذرائع نے بول ہیوسٹن کے نمائندے کامران جیلانی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جیل کے باہر انسانی فضلہ میں اومیکرون کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ جیل میں موجود کوئی قیدی اومیکرون کا شکار ہوا ہے۔

 حکام نے اس حوالے سے تحقیقات شروع کردی ہے اور تمام قیدیوں کے ٹیسٹ کرائے جانے کا امکان ہے۔

ٹیکساس میں اومیکرون وائرس کی موجودگی کے بعد امریکیوں ریاستوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے جہاں اس وائرس کی کیس سامنے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی کورونا وائرس کی نئی قسم کو ’’تشویشناک ویریئنٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے یونانی حرف ’’اومیکرون‘‘ کا نام دیا ہے۔

اس سے بیشتر کورونا کی اس نئی قسم کو ایک نمبر ’’بی ڈاٹ ون ڈاٹ ون فائیو ٹو نائن‘‘ دیا گیا تھا، اب تک کورونا وائرس کی مختلف اقسام سامنے آ چکی ہیں جنھیں عالمی ادارہ صحت ایلفا اور ڈیلٹا جیسے نام دے چکا ہے۔

برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی سے منسلک جینی ہیرس کا کہنا ہے کہ وائرس کی یہ نئی قسم اب تک سامنے آنے والی تمام اقسام کے مقابلے میں زیادہ خطرناک لگتی ہے۔

فوری طور پر نئی ہنگامی ریسرچ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے، کتنا مہلک ہے اور ویکسین کے خلاف اس کی مدافعت کتنی مؤثر ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کورونا وائرس کی اس نئی قسم کو اومی کرون کا نام دیا گیا ہے اور اس کے پہلے کیسز جنوبی افریقا میں دریافت کیے گئے تھے۔

اس کے بعد متعدد ممالک بشمول برطانیہ، کینیڈا اور امریکا نے جنوبی افریقا اور اس کے ارد گرد خطے کے ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

کورونا وائرس کی اس نئی قسم کے سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ کووڈ 19 کے خلاف تمام کوششیں ناکافی ثابت ہو سکتی ہیں اور اگر اس نئی قسم سے متعلق سائنسدانوں کے خدشات درست ہیں تو دنیا بھر میں کورونا کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔

کورونا کی اس نئی قسم کی دریافت کی اہم بات یہ ہے کہ اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے میں بہت زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں۔

دوسری جانب آسٹرا زینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین بنانے والی ٹیم کے سربراہ پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے خلاف بہت تیزی سے ایک نئی ویکسین تیار کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے اس امیدکا اظہار کیا کہ دستیاب تمام ویکسینز جنوبی افریقا میں سامنے آنے والی کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کے خلاف مؤثر ثابت ہوں گی اور آئندہ چند ہفتوں کی تحقیق میں اس سے متعلق معلومات حاصل ہوجائیں گی۔

پروفیسر اینڈریو پولارڈ اپنی گفتگو میں یہ بھی بتایا کہ ویکسین شدہ ملک یا شہر میں وہ وبائی مرض دوبارہ پھیلنے کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پر ایک نئی ویکسین تیزی سے تیار کی جا سکتی ہے۔

آکسفورڈ ویکسین گروپ کے ڈائریکٹر پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے امید ظاہر کی ہے کہ دستیاب تمام ویکسینز کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کے خلاف مؤثر ثابت ہوں گی تاہم ایسا نہ بھی ہوا تو نئی ویکسین بہت تیزی سے تیار ہوجائے گی۔

Square Adsence 300X250