Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج تاخیر کا شکار

Now Reading:

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج تاخیر کا شکار

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد مختلف حلقوں سے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ 

حیدرآباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کو واضح برتری حاصل ہے۔

کراچی 

کراچی کے 246 یونین کونسلز میں سے اب تک 54 کے نتائج آچکے ہیں۔ جس میں پیپلزپارٹی نے 22 ، جماعت اسلامی نے 17 اور تحریک انصاف نے 15 یوسیز اپنے نام کرلی ہیں۔

حیدرآباد

Advertisement

حیدرآباد کی 160 یونین کونسلز میں سے پیپلزپارٹی 36، پی ٹی آئی 4 اور جماعت اسلامی 2 نشتوں پر کامیاب رہی ہے۔

بدین 

بدین میونسپل کمیٹی پیپلزپارٹی نےاپنے نام کرلی۔ میونسپل کمیٹی کے 14 وارڈز میں سے پیپلزپارٹی 12وارڈز پر کامیاب ہوئی۔ ایک وارڈ سے تحریک انصاف اور ایک پر جی ڈی اے کا امیدوار فاتح قرار پایا۔

سیہون

سیہون میونسپل کمیٹی کے تمام 15 وارڈز پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کرلی۔

ٹھٹھہ

Advertisement

پیپلزپارٹی نے ضلع ٹھٹھہ کی 5 ٹاؤن کمیٹیوں میں سے 4 اپنے نام کرلیں جب کہ ایک نشست آزاد امیدوار کے حصے میں آئی۔

ٹنڈوالہ یار

میونسپل کمیٹی ٹنڈوالہ یار کے 23 وارڈز پر پیپلز پارٹی کے 16 امیدوار کامیاب ہوئے۔ پی ٹی آئی کے3،  تحریک لبیک پاکستان کے 2 اور ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔

میہڑ

میونسپل کمیٹی میہڑ میں تحریک انصاف نے 9 نشستیں اپنے نام کیں۔ پیپلزپارٹی کے حصے میں 4 نشستیں آئیں جب کہ پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) بھی ایک سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

دادو

Advertisement

میونسپل کمیٹی کے 24 وارڈز میں سے پیپلزپارٹی 18، پی ٹی آئی 3 اور 2 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔

مٹیاری

ٹاؤن کمیٹی کے 7 وارڈ میں سے جی ڈی اے 4 پر اور پیپلز پارٹی 3 پر کامیاب ہوگئی۔

بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ 5 بجے کے بعد پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں موجود ووٹرز کو ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔

اس سے قبل ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا اور اس دوران کسی بھی مقام پر کوئی ناخوشگوار واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا جب کہ مقررہ وقت تک پولنگ اسٹیشن کے اندر داخل ہونے والوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات 16 اضلاع میں ہورہے تھے جن میں کراچی ڈویژن کے 7 اور حیدرآباد ڈویژن کے 9 اضلاع شامل تھے۔ بلدیاتی انتخابات کے لئے 8706 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے، مردوں کے لیے 1204 اور خواتین کے لیے 1170 پولنگ سٹیشنز بنائے گئے تھے۔

Advertisement

کراچی ڈویژن کے 7 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن

کراچی ڈویژن کے 7 اضلاع (وسطی، شرقی، جنوبی، غربی، کیماڑی، ملیر، کورنگی) کی 25 ٹاؤنز کی 246 یوسیز کے 984 وارڈز میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری رہی۔

ہر یونین کونسل میں 4 وارڈز ہیں۔ ووٹر کو چیئرمین اور وائس چیئرمین کے علاوہ وارڈ کا جنرل کونسلر منتخب کرنا ہوگا، چیئرمین اور وائس چیئرمین کا ایک ووٹ ہوگا، دوسرا ووٹ جنرل کونسلر کا ہوگا، ہر یونین کونسل 11 ارکان پر مشتمل ہوگی، یونین کونسل میں 6 افراد براہِ راست منتخب ہوں گے۔

کراچی ڈویژن میں چیئرمین، وائس چیئرمین اور جنرل ممبر کی نشست کے لیے 9 ہزار 58 امیدوار میدان میں ہیں اور مختلف یونین کمیٹیوں سے 7 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

کراچی ڈویژن کی جنرل ممبرز اور چیئرمین اور وائس چیئرمین کی 22 نشستوں پر امیدواروں کے انتقال کے باعث انتخابات آج نہیں ہوئے۔ ان امیدواروں میں مختلف یونین کمیٹیوں کے 9 چیئرمین اور وائس چیئرمین جب کہ 13 جنرل ممبرز کے امیدوار بھی شامل ہیں۔

Advertisement

حیدرآباد ڈویژن کے 9 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن

حیدرآباد میں 2551، دادو میں 1436، جامشورو میں 839، ٹنڈوالہیار میں 781، مٹیاری میں 715 اور ٹنڈومحمد خان میں 452 امیدوار مختلف نشستوں پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

Advertisement

پولنگ کے 709 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جبکہ شہر میں رجسٹرڈ 10 لاکھ 53 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے 26 یوسی چیئرمین اور 149 وارڈز کے جنرل ممبران بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ 134 یوسی چیئرمین اور 291 وارڈز پر مقابلہ ہوگا جس کے لئے 25 سو سے زائد امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔

مرکزی کنٹرول روم 

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے اسلام آباد الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں قائم مرکزی کنٹرول روم  مانیٹرنگ کرتا رہا۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے بتایا کہ مرکزی کنٹرول روم کو اب تک پولنگ سے متعلق ایک شکایت موصول ہوئی، شکایت پولنگ شروع ہونے میں تاخیر سے متعلق تھی۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں گزشتہ ہفتہ کمی ریکارڈ
چیف جسٹس پاکستان کا جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے سے جزوی اختلافی نوٹ
کل 26 تاریخ کو اسلام آباد میں تاریخی دھرنا ہوگا، امیر جماعت اسلامی
پولیس، سی ٹی ڈی دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پرہوگی، بیرسٹر سیف
دہشتگرد عناصر کیخلاف کارروائی پولیس اور سی ٹی ڈی کرے گی، ایپکس کمیٹی
ایف پی سی سی آئی، اسلام آباد اور واشنگٹن ڈی سی کے درمیان سسٹر سٹی پارٹنرشپ کا خواہاں ہے
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر