اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس میں ہونے والے اہم اجلاس کے اندرونی نکات منظرِعام پر آگئے ہیں، جن سے پارٹی کی موجودہ حکمتِ عملی اور تنظیمی معاملات پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کے معاملے پر بھی اجلاس میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بتایا گیا کہ حکومتی پیشکش کے باوجود، جس میں ڈاکٹروں اور سینئر قیادت کی موجودگی شامل تھی، علیمہ خان نے اسے قبول نہیں کیا، جس کے باعث کوئی بھی پارٹی نمائندہ چیک اپ میں شریک نہ ہو سکا۔
بعض شرکا نے رائے دی کہ اگر قیادت کے دیگر افراد کو بھی اسی طرح محدود رکھا گیا تو اس سے پارٹی اور خان دونوں کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
احتجاج محدود رکھنے کی ہدایت
اجلاس میں ارکانِ صوبائی اسمبلی کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں واپس جا کر مزید کارکنان کو متحرک کریں، تاہم احتجاج کا دائرہ کار صرف خیبرپختونخوا تک محدود رکھا جائے۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ غیر ضروری تصادم سے گریز کیا جائے۔
پارلیمانی کردار پر سوالات
ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر نے خود کو پارلیمنٹ کے اندر تک محدود رکھا، جبکہ کچھ رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ قیادت کو باہر نکل کر کارکنان کی رہنمائی کرنی چاہیے تھی تاکہ سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آتی۔
اسی طرح اقبال آفریدی کو سخت زبان اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کی ہدایت کی گئی، جس پر انہوں نے خود کو پارلیمانی لاجز تک محدود کر لیا۔ بعض حلقوں نے اسے پارٹی ہدایات سے عدم دلچسپی قرار دیا۔
ٹرولنگ اور عوامی ردعمل پر تشویش
اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پارٹی سے منسلک بعض سوشل میڈیا ٹرولز کی بلند آواز اور تضحیک آمیز مہمات کارکنان کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہیں۔
سڑکوں کی بندش کے باعث عوامی مشکلات بھی زیرِ بحث آئیں، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ پارٹی کو اپنی موجودہ حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آزادانہ فیصلے کریں اور کسی بھی غیر رسمی دباؤ یا ویٹو کے تابع نہ ہوں۔
قانونی کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ پارٹی اُن عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو بانی چیئرمین کی صحت سے متعلق مبینہ طور پر جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں، جن میں بینائی مستقل ختم ہونے جیسے دعوے بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا۔


















