Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

این ٹی این کو شناختی کارڈ سے منسلک کرنے کی تجویز؛ ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلی متوقع

پاکستان میں اس وقت شناختی کارڈ اور این ٹی این دو الگ شناختی نظام کے طور پر استعمال ہوتے ہیں

اسلام آباد: پاکستان میں ٹیکس نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) کو قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کے ساتھ مکمل طور پر ضم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

اس اقدام سے ٹیکس نیٹ میں نمایاں اضافہ، محصولات کی وصولی میں بہتری اور انتظامی اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں اس وقت شناختی کارڈ اور این ٹی این دو الگ شناختی نظام کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جس کے باعث ریکارڈز کے دہراؤ، دستاویزی پیچیدگیوں اور ٹیکس انتظامیہ کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔

 تجویز کے مطابق شناختی کارڈ کو تمام ٹیکس معاملات کے لیے واحد شناختی نمبر قرار دیا جائے تاکہ شہریوں کو الگ این ٹی این حاصل کرنے کی ضرورت نہ رہے۔

برطانیہ سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک میں مربوط شناختی نظام کامیابی سے کام کر رہے ہیں جہاں شہری مختلف سرکاری اور مالیاتی امور کے لیے ایک ہی شناختی نمبر استعمال کرتے ہیں، اسی طرز پر پاکستان میں بھی نادرا کے جاری کردہ شناختی کارڈ کو ٹیکس شناخت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تجویز کے مطابق اگر تمام مالی اور معاشی سرگرمیوں کو شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو خرید و فروخت، جائیداد کی منتقلی، گاڑیوں کی رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹس اور دیگر اہم لین دین کا جامع ریکارڈ تیار کیا جا سکے گا، اس سے غیر دستاویزی معیشت کو کم کرنے اور مالی شفافیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔

تجویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہے جس کی ایک بڑی وجہ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد کا ٹیکس نیٹ سے باہر ہونا ہے۔ شناختی کارڈ کو واحد ٹیکس شناخت بنانے سے ایسے افراد کی نشاندہی آسان ہو جائے گی جو مالی سرگرمیوں میں تو متحرک ہیں لیکن ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتے۔

اس مجوزہ نظام سے سرکاری اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ اور ریکارڈ کی تصدیق کا عمل بھی آسان ہو جائے گا۔ الگ الگ نظام برقرار رکھنے پر آنے والے اخراجات میں کمی آئے گی جبکہ شہریوں کے لیے ٹیکس رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کا عمل مزید سہل ہوجائے گا۔

تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نادرا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، بینکنگ اداروں، پراپرٹی رجسٹریشن حکام، گاڑیوں کی رجسٹریشن اتھارٹیز اور یوٹیلیٹی سروس فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط نظام قائم کیا جائے، اس کے تحت بڑے مالیاتی لین دین کی رپورٹنگ شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے کی جا سکے گی۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے نظام کے نفاذ کے دوران رازداری، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا ہوگی جبکہ جدید سکیورٹی نظام، سخت قانونی نگرانی اور مؤثر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے بغیر اس منصوبے کی کامیابی ممکن نہیں ہوگی۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ این ٹی این کو شناختی کارڈ میں ضم کرنے کی صورت میں پاکستان کو ٹیکس وصولی میں بہتری، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور مالیاتی شفافیت کے اہداف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ یہ اقدام ملک کے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں