وفاقی بجٹ 2026-27 میں مہنگی درآمدی گاڑیوں، ایس یو ویز اور لگژری الیکٹرک وہیکلز پر نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز سامنے آ گئی ہے جس کے بعد اعلیٰ مالیت کی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق حکومت نے 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک انجن صلاحیت رکھنے والی درآمدی گاڑیوں اور ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ 3000 سی سی سے زائد انجن والی درآمدی گاڑیوں پر مزید بلند شرح سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
دستاویزات کے مطابق 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں کو بھی پہلی مرتبہ نئے ٹیکس نظام کے دائرے میں لانے کی تجویز دی گئی ہے جس سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مہنگی درآمدی اور لگژری گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرکے محصولات میں اضافہ کیا جائے گا اور ٹیکس کا بوجھ زیادہ مالی استطاعت رکھنے والے طبقے پر منتقل کیا جائے گا۔
مجوزہ اقدامات کے تحت درآمدی ایس یو ویز، بڑی گاڑیوں اور قیمتی الیکٹرک وہیکلز پر اضافی ٹیکس لاگو ہونے کی صورت میں آٹو مارکیٹ میں قیمتوں اور طلب پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
بجٹ تجاویز کی حتمی منظوری کے بعد ان نئے ٹیکس اقدامات کے نفاذ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

















