Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے، این ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ جاری

تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری

نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے آئندہ ہفتے کے دوران ملک بھر میں ممکنہ خطرات کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

الرٹ کے مطابق گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے گلیشیئرز سے منسلک علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے  کے باعث اچانک سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل میں تیزی آنے کا امکان ہے، جس سے ملبے کے ریلے، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، استور، دیامر، اپر و لوئر چترال، سوات، دیر اور دیگر پہاڑی وادیوں میں خصوصی احتیاط کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

ہسپر اور ہوپر نالہ میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے جبکہ مقامی سطح پر اچانک سیلاب اور دریائی کٹاؤ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

این ای او سی نے یکم سے 4 جولائی 2026 تک کے لیے بھی خصوصی الرٹ جاری کیا ہے جس کے مطابق مون سون سسٹم اور مغربی ہواؤں کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں اور اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع بشمول پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، سوات، دیر اور چترال میں ندی نالوں کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔

پنجاب کے راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ سمیت کئی شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

بلوچستان اور آزاد کشمیر میں بھی مقامی سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور ہنگامی مشینری تیار رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔