پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی، اتحاد اور فرقہ وارانہ رواداری کی ایک تاریخی مثال قائم ہوگئی، جب تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام اور مشائخ نے جامعۃ الرشید کراچی میں ایک ہی امام کے پیچھے نمازِ مغرب ادا کرکے قومی یکجہتی اور امن کا بھرپور پیغام دیا۔
یہ تاریخی منظر جامعۃ الرشید کراچی کے سرکاری دورے کے موقع پر سامنے آیا، جس کا اہتمام قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیر اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء، ملک کے بڑے دینی مدارس کے نمائندگان اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے شرکت کی۔
اس اجتماع کو پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد موقع قرار دیا جا رہا ہے جہاں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء ایک ممتاز دینی ادارے میں اکٹھے ہوئے اور ایک ہی امام کی اقتداء میں باجماعت نماز ادا کرکے اتحاد، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا عملی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر علماء کرام نے انتہاپسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کا پیغام دیا۔
تقریب میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، علامہ عارف واحدی، علامہ محمد حسین اکبر، مفتی عبدالرحیم، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی محمد کریم خان، ڈاکٹر آصف میر، مفتی یوسف کشمیری، علامہ توقیر عباس، علامہ اسد زیدی، حافظ مقبول احمد سمیت مختلف وفاق ہائے مدارس کے نمائندگان نے شرکت کی۔
حافظ طاہر محمود اشرفی کا اہم پیغام
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اس موقع کو پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج وہ دن آ گیا ہے جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔ ہماری خواہش تھی کہ جس طرح حرمین شریفین میں تمام مسلمان ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں، اسی طرح پاکستان میں بھی مسلمان اتحاد کا عملی مظاہرہ کریں۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ الحمدللہ، آج جامعۃ الرشید سے اس مبارک سفر کا آغاز ہو گیا ہے ان شاء اللہ قوم مستقبل میں بھی اتحاد، امن، رواداری اور اخوت کے ایسے عملی مظاہرے دیکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی، پیغامِ پاکستان کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پُرعزم ہے اور انتہاپسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اتحاد، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور دینی رہنماؤں کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی اجتماعی موجودگی امن، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔

















