Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

رنگوں کی درویش: صغرا ربابی، جس نے فن کو انسانیت کا چراغ بنادیا

تاریخ میں بعض فنکار ایسے پیدا ہوتے ہیں جو صرف تصویریں نہیں بناتے بلکہ اپنے عہد کے احساسات کو رنگوں میں قید کردیتے ہیں۔ ان کے برش سے نکلنے والی ہر لکیر انسان دوستی، محبت اور امید کا استعارہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کی نامور مصورہ، ڈیزائنر، مجسمہ ساز اور سماجی کارکن صغرا ربابی بھی ایسی ہی غیر معمولی شخصیت تھیں جنہوں نے فن کو شہرت یا دولت کا وسیلہ بنانے کے بجائے انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ جب فن، احساسِ انسانیت سے ہم آہنگ ہوجائے تو اس کی گونج سرحدوں، زبانوں اور نسلوں سے بہت آگے تک سنائی دیتی ہے۔

ان کی فنی اور فلاحی خدمات کے اعتراف میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف نے ’’صغرا ربابی فنڈ‘‘ قائم کیا جب کہ امریکا کے شہر سان فرانسسکو کے میئر نے 19 جنوری 1994ء کو ’’صغرا ربابی ڈے‘‘ قرار دے کر ایک پاکستانی فنکارہ کو وہ اعزاز بخشا جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پاکستانی فن اور انسان دوستی کا عالمی اعتراف تھا۔

صغرا ربابی 29 اگست 1922ء کو کراچی کے ایک خوشحال، تعلیم یافتہ اور باوقار کاروباری خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد غلام علی طیب علی مانڈوی والا شہر کے معروف صنعت کار، تاجر اور زمیندار تھے۔ ان کا تعلق داؤدی بوہرہ جماعت سے تھا۔ یہ خاندان تقسیم ہند کے بعد گجرات (مادھوپور/مانڈوی) سے ہجرت کرکے کراچی آیا تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد کراچی کی تجارتی دنیا میں ان کا شمار نمایاں شخصیات میں ہوتا تھا۔ پریڈی اسٹریٹ پر واقع ان کی رہائش گاہ شہر کے معزز خاندانوں میں شمار ہوتی تھی جب کہ ان کی کمپنی ’’مانڈوی والا موٹرز‘‘ برطانوی اور یورپی گاڑیوں کے معروف برانڈز Nash، Rover، Alvis اور Panhard کی واحد ڈسٹری بیوٹر تھی۔

یہ خاندان صرف تجارت ہی میں ممتاز نہ تھا بلکہ علم، ادب، صحافت اور فنونِ لطیفہ کی روایت بھی اس کی پہچان تھی۔ صغرا ربابی پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ ان کی بہن انیس مرزا پاکستان کی ممتاز صحافی بنیں اور روزنامہ ڈان سے وابستہ رہتے ہوئے قومی اسمبلی کی کارروائی پر مبنی مشہور کالم ’’پریس گیلری سے‘‘ لکھنے والی پہلی خاتون صحافی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ دوسری بہن بانو شادی کے بعد سری لنکا منتقل ہوگئیں جب کہ سلمیٰ نورانی ایک عمدہ ٹینس کھلاڑی تھیں۔

صغرا ربابی نے اپنی ابتدائی فنی تعلیم کراچی کے تاریخی علاقے پاکستان چوک میں واقع سارناگتی اسکول آف آرٹ سے حاصل کی، بعدازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے برصغیر کے ممتاز ادارے شانتینیکیٹن کا رخ کیا، جہاں انہیں تخلیقی آزادی، مشرقی جمالیات اور فنی اظہار کے وہ اصول میسر آئے جنہوں نے ان کے فن کو منفرد شناخت عطا کی۔

1940ء میں انہوں نے پورے برصغیر کو حیران کردیا جب محض ایک نوجوان فنکارہ کی حیثیت سے آل انڈیا پینٹنگ مقابلے کا سب سے بڑا اعزاز حاصل کیا۔ اس مقابلے میں برصغیر کے نامور فنکاروں اور عظیم شخصیات جن میں ٹیگور، بوس اور عبدالرحمن چغتائی جیسے ممتاز فنکار بھی شامل تھے، ان کے فن پارے بھی نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔

نتائج کا اعلان ہوا تو حاضرین حیرت زدہ رہ گئے۔ صغرا ربابی کی پینٹنگ ’’انارکلی‘‘ نے پہلی پوزیشن حاصل کرلی اور یوں وہ اس ممتاز آل انڈیا مقابلے میں اعلیٰ ترین اعزاز جیتنے والی پہلی خاتون مصورہ بن گئیں۔ یہ کامیابی نہ صرف اُن کی غیرمعمولی فنی مہارت کا اعتراف تھی بلکہ برصغیر میں خواتین مصوروں کے لیے ایک نئے اور روشن باب کا آغاز بھی ثابت ہوئی ان کی شہرۂ آفاق پینٹنگ ’’انارکلی‘‘ نے انہیں برصغیر کی ممتاز مصوراؤں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ بعدازاں یہی شاہکار معروف ادیب مرزا حامد علی بیگ کے ناول ’’انارکلی‘‘ کے سرورق کی زینت بھی بنا۔

صغرا ربابی محض مصورہ نہیں تھیں بلکہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھیں۔ روغنی رنگ، ایکریلک، خطاطی، تجریدی آرٹ، علامتی اظہار اور مجسمہ سازی میں ان کی مہارت مسلمہ تھی۔ انہوں نے کبھی کسی اسلوب کی تقلید نہیں کی بلکہ اپنی الگ فنی زبان تخلیق کی جس میں مشرقی روایت، روحانی لطافت اور جدید جمالیات کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔

لاہور میں قیام کے دوران ان کی شادی معروف مصور آذر زوبی سے ہوئی۔ بعدازاں کراچی میں انہوں نے ’’ربابی اسکول‘‘ قائم کیا، جہاں مصوری، مجسمہ سازی اور رقص کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ ادارہ صرف فن سکھانے کا مرکز نہیں بلکہ تخلیقی شعور اور انسانی اقدار کی تربیت گاہ بھی تھا۔

ان کی زندگی کا سب سے تابناک پہلو ان کی انسان دوستی تھی۔ انہوں نے اپنی پینٹنگز کی فروخت سے حاصل ہونے والی خطیر رقم ذاتی آسائشوں پر خرچ کرنے کے بجائے فلاحی منصوبوں کے لیے وقف کردی۔ فلسطینی طلبہ، صومالیہ کے قحط زدگان اور بوسنیائی جنگ کے متاثرین کے لیے فنڈ جمع کرنے کی خاطر انہوں نے اپنی متعدد نمائشیں مخصوص کیں۔ ان کے نزدیک فن کی اصل عظمت اسی وقت مکمل ہوتی تھی جب اس سے کسی دکھی انسان کے آنسو پونچھے جاسکیں۔

1992ء میں سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی ان کی آخری سولو نمائش کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ دو برس بعد اسی شہر میں انہوں نے بوسنیائی متاثرین کی امداد کے لیے ایک خیراتی نمائش منعقد کی جس کے اعتراف میں 19 جنوری 1994ء کو ’’صغرا ربابی ڈے‘‘ منایا گیا۔

لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا 70 سالہ صغری ربابی کو صرف تین روز بعد، 22 جنوری 1994ء کو کراچی کے علاقے کے ڈی اے اسکیم 1 میں اپنے گھر میں قائم اسٹوڈیو میں بوسنیائی جنگ کے متاثرین کے لیے ایک اور امدادی پروگرام کی تیاری میں مصروف تھیں کہ انہیں نامعلوم افراد نے بے دردی سے قتل کردیا۔ یہ سانحہ نہ صرف پاکستانی فنونِ لطیفہ بلکہ عالمی ثقافتی حلقوں کے لیے بھی ایک صدمے سے کم نہ تھا۔ صغری ربابی کے قتل کے حوالے سے ان کی صاحبزادی نے والد آذر زوبی پر شک کا اظہار کیا تھا جب کہ ابتدائی شبہات بھی ان کے شوہر آذر زوبی کی طرف گئے تاہم قانونی کارروائی کے بعد وہ رہا ہوگئے اور قتل کا معمہ آج تک حل نہ ہوسکا۔ اسی واردات کے دوران ان کی بے مثال اور قیمتی پینٹنگ ’’انارکلی‘‘ بھی پراسرار طور پر غائب ہوگئی جس کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

صغرا ربابی کی المناک موت نے ایک فنکارہ کی زندگی تو ختم کردی مگر ان کے فن، ان کے نظریے اور انسان دوستی کے جذبے کو امر کردیا۔ آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کی نئی نسل ان کی شخصیت اور خدمات سے بڑی حد تک ناواقف ہے، حالانکہ وہ ان چند پاکستانی خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر نہ صرف اپنے فن کا لوہا منوایا بلکہ اپنی کامیابی کو دکھی انسانیت کی خدمت میں بھی وقف کردیا۔

صغرا ربابی کا فن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مصوری صرف کینوس پر رنگ بکھیرنے کا نام نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں امید کے چراغ روشن کرنے کا ہنر بھی ہے۔ وہ رنگوں کی ایسی درویش تھیں جنہوں نے زندگی بھر حسن تخلیق کیا، محبت بانٹی اور انسانیت کی خدمت کو اپنا سب سے بڑا شاہکار بنادیا۔

ایسی شخصیات جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ضرور ہوجاتی ہیں مگر ان کے کردار، فن اور خدمت کے رنگ کبھی مدھم نہیں پڑتے۔ صغرا ربابی بھی انہی ہمیشہ زندہ رہنے والی شخصیات میں شامل ہیں جن کا نام پاکستانی فن اور انسان دوستی کی تاریخ میں ہمیشہ احترام، فخر اور محبت سے لیا جاتا رہے گا۔