Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے، شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف  نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے 2018 میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم   ایک منظم سازش کے تحت یہ دوبارہ سر اٹھانے لگی۔

 وزیراعظم نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے اور صوبے کی خوشحالی کے لیے کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑے گی۔

وزیراعظم نے بتایا کہ وفاقی بجٹ میں آبی ذخائر کے منصوبوں کے لیے 368 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ کچھی کینال کو ایک اہم قومی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا نام “پاکستان کینال” ہونا چاہیے۔

انہوں نے مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم اور ایک اہلکار کی شہادت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے جبکہ 2018 میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم بعد ازاں ایک منظم سازش کے تحت یہ دوبارہ سر اٹھانے لگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، لیکن افغان حکومت دہشت گرد عناصر کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے عظیم قربانیاں دی ہیں، تاہم “معرکۂ حق” میں دشمن کو شکستِ فاش دی گئی اور پاکستان کی کامیابیاں دشمن کے لیے ناقابلِ برداشت بن چکی ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو معاشی ترقی کی نئی راہ پر گامزن کیا جائے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ترقی کے ثمرات تمام صوبوں تک منتقل کیے جائیں گے، جبکہ شفاف حکومتی نظام کو وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر بھی فروغ دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے چمن تک دورویہ شاہراہ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور 300 ارب روپے مالیت کا یہ منصوبہ آئندہ دو برس میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے 27 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے 75 ارب روپے کے منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے کا حصہ فراہم کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب نے بلوچستان کے لیے فراخدلانہ تعاون کیا اور 150 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ دیگر تینوں صوبوں نے بھی بلوچستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کے بقول یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں بلوچستان کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، جبکہ پی ڈی ایم اور موجودہ حکومتوں نے بھی صوبے کی ترقی کے لیے ریکارڈ فنڈز جاری کیے ہیں۔

وزیراعظم نے بلوچستان کی سیاسی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وفاق کا ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وسیع رقبے اور دور دراز علاقوں کے باعث صوبے کو دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ وسائل کی ضرورت ہے۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد چاروں صوبوں کا مشترکہ دارالحکومت ہے، جبکہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

متعلقہ خبریں