وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں کاروباری شعبے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی قرضوں تک رسائی بڑھانے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ہوا، جس میں کاروباری شعبے کے لیے مالی سہولیات میں اضافے کے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کاروباری شعبے کو قرضوں تک آسان رسائی پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات میں بھی بہتری آئے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کاروباری برادری، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کرنے والوں کے لیے قرضوں کے حصول کے عمل کو تیز اور آسان بنایا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جو بینک کاروباری شعبے، بالخصوص ایس ایم ایز کو سب سے زیادہ قرضے فراہم کرے گا، اسے ہر سال خصوصی ایوارڈ دیا جائے گا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے مالیات تک رسائی بڑھانے کے لیے تین سطحی گورننس ڈھانچے کی منظوری بھی دی۔ اس ڈھانچے کے تحت مالیاتی سہولیات کی فراہمی کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے۔
اسی طرح مالیات تک رسائی بڑھانے کے لیے قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی وزیر خزانہ کریں گے، جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک اس کے شریک چیئرمین ہوں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایس ایم ای، زراعت، آئی ٹی، نئی توانائی اور ہاؤسنگ فنانس کے شعبوں کے لیے الگ الگ شعبہ جاتی ذیلی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جون 2026 تک بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای فنانسنگ کا حجم 1.15 ٹریلین روپے سے بڑھا کر جون 2028 تک 2 ٹریلین روپے تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جون 2028 تک ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد موجودہ 3 لاکھ 24 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 75 ہزار کرنے کا منصوبہ ہے۔
بریفنگ کے مطابق بینکاری قرضوں میں ایس ایم ای فنانسنگ کا حصہ موجودہ 9.9 فیصد سے بڑھا کر جون 2028 تک 13 فیصد کیا جائے گا۔
اجلاس میں بینکوں کی کارکردگی جانچنے، مقررہ اہداف کے حصول کی نگرانی اور بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی کے لیے اسکورنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان جمیل احمد، چیئرمین پاکستان بینکرز ایسوسی ایشن ظفر مسعود اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

















