Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تھر کول اور کے الیکٹرک کے تعاون سے جامشورو پاور پلانٹ کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے کا تاریخی فیصلہ

فزیبلٹی اسٹڈی میں منصوبے کو تکنیکی اور معاشی اعتبار سے قابل عمل قرار دیا گیا

پاکستان کے توانائی شعبے میں مقامی وسائل کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کے الیکٹرک (K-Electric) کی قیادت میں تھر بلاک ون کان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور جامشورو پاور کمپنی لمیٹڈ (JPCL) کو 2029 تک مکمل طور پر مقامی تھر کول پر منتقل کرنے کے منصوبے پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

تھر بلاک ون مائن سائٹ پر ہونے والے اجلاس میں کے الیکٹرک لمیٹڈ کے چیئرمین شہریار ارشد چشتی، تھر کول انرجی بورڈ (TCEB) کے مینیجنگ ڈائریکٹر طارق علی شاہ، سائنو سندھ ریسورسز لمیٹڈ (SSRL) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لی جِگن، جامشورو پاور کمپنی لمیٹڈ (JPCL) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عبدالوکیل، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں 660 میگاواٹ جامشورو پاور منصوبے کے لیے مقامی تھر کوئلے کی فراہمی کے انتظامات پر تفصیلی بات چیت کی گئی، جس میں منصوبے کے عبوری مرحلے میں درآمدی اور مقامی کوئلے کے امتزاج (Blended Coal Operations) سے لے کر مستقبل میں مکمل طور پر تھر کول کے استعمال تک کے معاملات زیر غور آئے۔

کے الیکٹرک کے مطابق یہ اقدام کمپنی کے وسیع تر جنریشن ٹرانسفارمیشن پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت بجلی پیدا کرنے والے موزوں اثاثوں کو مقامی توانائی ذرائع سے ہم آہنگ کرنے کے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں۔

جامشورو پاور منصوبے کی تھر کول پر منتقلی سے 3.2 ارب ڈالر کے معاشی فوائد کا امکان

کے الیکٹرک نے جامشورو پاور منصوبے کو تھر کول پر منتقل کرنے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمن انجینئرنگ کنسلٹنٹ Dornier Power and Heat GmbH کے ذریعے ایک آزاد اور بینکاری معیار کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کرائی۔

فزیبلٹی اسٹڈی میں منصوبے کو تکنیکی اور معاشی اعتبار سے قابل عمل قرار دیا گیا، جبکہ اسٹڈی کے بنیادی مفروضوں کے مطابق جامشورو پاور پلانٹ کی باقی ماندہ زندگی کے دوران اس منتقلی سے تقریباً 3.2 ارب امریکی ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اس منتقلی کے نتیجے میں درآمدی کوئلے کی ضروریات میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور پاکستان کے توانائی شعبے کو مقامی وسائل پر منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔

کے الیکٹرک کے چیئرمین شہریار ارشد چشتی نے کہا کہ کمپنی کراچی کے صارفین کے لیے بجلی کی بنیادی لاگت میں کمی کے لیے قابل عمل مواقع پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقامی توانائی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال سستی بجلی کی فراہمی، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جامشورو پاور پلانٹ کی تھر کول پر منتقلی اور کے الیکٹرک کے اپنے بجلی پیدا کرنے والے نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں کمپنی کی وسیع آپریشنل اور مالیاتی تبدیلی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد کراچی کے صارفین کے لیے پائیدار فوائد فراہم کرنا ہے۔”

تھر بلاک ون کان کی صلاحیت 7.8 سے بڑھا کر 15.6 ملین ٹن سالانہ کرنے کا منصوبہ

کے الیکٹرک نے بتایا کہ جامشورو پاور منصوبے اور کے الیکٹرک کے مستقبل کے جنریشن پورٹ فولیو کی مشترکہ کوئلے کی ضروریات تھر بلاک ون کان کی توسیع کے لیے طویل المدتی طلب پیدا کریں گی۔

اس طلب کو پورا کرنے کے لیے تھر بلاک ون کان کی موجودہ پیداواری صلاحیت تقریباً 7.8 ملین ٹن سالانہ (MTPA) سے بڑھا کر تقریباً 15.6 ملین ٹن سالانہ (MTPA) کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

سائنو سندھ ریسورسز لمیٹڈ (SSRL) نے تصدیق کی ہے کہ وہ جامشورو پاور پلانٹ کی 2029 تک درآمدی کوئلے سے مقامی تھر کول پر منتقلی سے قبل کان کی توسیع کا عمل شروع کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ مستقبل میں کوئلے کی مسلسل اور طویل المدتی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور تھر کول کو مزید کم لاگت بنایا جا سکے۔

SSRL جدید ٹیکنالوجی سے کان کی توسیع کرے گا

SSRL کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لی جِگن نے کہا کہ کمپنی اپنی مالی وسائل کے ذریعے مجوزہ توسیعی منصوبہ مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کان کی توسیع میں کم اضافی اووربرڈن ریموول کی ضرورت ہوگی، جبکہ جدید کان کنی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، جس میں:

الیکٹرک مائننگ گاڑیوں کا استعمال

جہاں ممکن ہو ڈیزل سے چلنے والے آلات کی جگہ گرڈ سے حاصل بجلی کا استعمال

جدید بکٹ چین ایکسکیویٹر (BCE) سسٹمز کا نفاذ شامل ہیں۔

ان اقدامات سے کان کنی کی کارکردگی بہتر ہوگی، آپریشنل اخراجات کم ہوں گے، ماحولیاتی اثرات محدود ہوں گے اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے باعث تھر کول کی طویل المدتی لاگت میں مزید کمی متوقع ہے۔

SSRL، جامشورو پاور کمپنی اور کے الیکٹرک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ضروری کول سپلائی ایگریمنٹ (CSA) جلد مکمل کیا جائے گا، تاکہ SSRL اہم کان کنی آلات، بالخصوص الیکٹرک ڈمپ ٹرکس اور دیگر طویل المدتی تیاری والے آلات کی خریداری کا عمل شروع کر سکے۔

TCEB، JPCL اور PPIB کا تعاون کا اعلان

تھر کول انرجی بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر طارق علی شاہ نے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کان کی توسیع میں سہولت فراہم کرنے اور اپنے دائرہ اختیار میں ضروری ریگولیٹری اقدامات مکمل کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کان کنی کے عمل کو مزید مؤثر بنانا اور مستقبل میں بجلی صارفین کے فائدے کے لیے کوئلے کے نرخوں میں کمی لانا ہے۔

جامشورو پاور کمپنی اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) نے بھی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل تعاون کا اظہار کیا، جبکہ تمام اسٹیک ہولڈرز نے تکنیکی، تجارتی، ریگولیٹری اور سپلائی سے متعلق امور پر مشترکہ اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

مقامی توانائی سے بجلی کی لاگت کم کرنے کا ہدف

کے الیکٹرک کی جانب سے فزیبلٹی اسٹڈی کی فنڈنگ اور اہم شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کمپنی قومی اہمیت کے منصوبوں میں اپنے وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیتیں استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

کمپنی کے مطابق مقامی تھر کول کے استعمال سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت کم کرنے، درآمدی ایندھن پر انحصار گھٹانے، زرمبادلہ بچانے اور مستقبل میں بجلی کے شعبے کے لیے حکومتی ٹیرف سپورٹ پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں