خیبرپختونخوا کے پُرفضا علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا واقعے میں پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد جاں بحق جبکہ 18 افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق دھماکا کبل تھانے کے مرکزی گیٹ کے قریب اس وقت ہوا جب ایک خودکش حملہ آور نے پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے گیٹ پر ہی روک لیا، جس پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
ڈی پی او سوات عمر گنڈاپور نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 7 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈی آئی جی مالاکنڈ سید فدا حسین کے مطابق واقعے کے وقت کبل میں مقامی نوجوانوں کا احتجاج بھی جاری تھا تاہم احتجاج کا مقام دھماکے کی جگہ سے فاصلے پر تھا اور اس کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کبل پولیس اسٹیشن کے اطراف میں پولیس لائن اور دیگر حساس عمارتیں بھی موجود ہیں، جس کے باعث سیکیورٹی صورتحال کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں، ایمبولینسز اور میڈیکل عملہ فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گیا۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کبل اور سیدو شریف کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری رہیں اور زخمیوں کی منتقلی کا عمل مکمل کیا گیا۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔














