Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آباد میں فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر 5 عمارتیں سیل، 3 اسپتالوں پر جرمانہ

لازمی حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے پر قواعد کے تحت عمارتیں سیل اور جرمانے عائد کیے گئے، سی ڈی اے

وفاقی حکومت کی ہدایات پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد میں فائر اور لائف سیفٹی قوانین پر عملدرآمد مزید سخت کرتے ہوئے 5 عمارتیں سیل اور 3 بڑے اسپتالوں پر 5،5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

سی ڈی اے کے مطابق فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پہلے جاری کردہ فائر سیفٹی آبزرویشنز اور ہدایات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد نہ کرنے پر شہید ملت سیکرٹریٹ، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن بلڈنگ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان بلڈنگ، بیورلی سینٹر پلازہ اور کراؤن پلازہ ہوٹل بلڈنگ کو سیل کیا گیا۔

اس کے علاوہ کیپیٹل اسپتال، پولی کلینک اسپتال اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پمز پر فائر اور لائف سیفٹی کے مقررہ ضوابط پر مکمل عملدرآمد نہ کرنے پر 5 لاکھ روپے فی اسپتال جرمانہ عائد کیا گیا۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور فائر سیفٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تمام عمارتوں، اداروں اور تنظیموں کے لیے فائر پریوینشن، فائر فائٹنگ، ہنگامی انخلا اور دیگر لائف سیفٹی انتظامات کی فراہمی اور مناسب دیکھ بھال لازمی ہے۔

سی ڈی اے کے متعلقہ شعبوں کو فائر سیفٹی کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور حفاظتی معیار پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ ملازمین، شہریوں اور عمارتوں میں آنے والے افراد کی جان و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ اسلام آباد بھر میں عمارتوں کے جامع معائنے بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ انسپکشن کے دوران فائر پریوینشن سسٹم، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی ایگزٹس، انخلا کے راستوں، الارم سسٹمز، ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے رسائی اور دیگر ضروری لائف سیفٹی انتظامات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق متعلقہ عمارتوں کی انتظامیہ کو پہلے ہی خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں مقررہ مدت میں دور کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم لازمی حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے پر قواعد کے تحت عمارتیں سیل اور جرمانے عائد کیے گئے۔

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ فائر سیفٹی مہم محض معائنوں تک محدود نہیں بلکہ قابلِ تلافی جانی و مالی نقصان کی روک تھام کے لیے جامع انفورسمنٹ مہم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کے خلاف آئندہ بھی قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔

سی ڈی اے کے متعلقہ شعبوں کو فائر سیفٹی کمپلائنس کی مسلسل نگرانی اور معائنوں کے بعد سامنے آنے والی خامیوں کے مؤثر اور بروقت ازالے کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اسلام آباد میں روک تھام، ہنگامی تیاری اور ادارہ جاتی ذمہ داری کا مضبوط کلچر قائم کیا جاسکے۔

سی ڈی اے نے تمام سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر اداروں، اسپتالوں، تجارتی مراکز اور نجی عمارتوں کے مالکان و انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اپنے فائر سیفٹی انتظامات کا فوری جائزہ لیں اور مقررہ حفاظتی معیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔

چیئرمین سی ڈی اے نے وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق فائر سیفٹی کو اجتماعی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ فائر فائٹنگ آلات کی بروقت تنصیب، باقاعدہ دیکھ بھال، ایمرجنسی راستوں کو ہر وقت کھلا اور قابل رسائی رکھنا اور مؤثر حفاظتی انتظامات ہنگامی صورتحال میں قیمتی انسانی جانیں بچانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں