وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال پمز کے افسوسناک سانحے کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہیں تاہم سابق وزیر صحت اور صحت کے شعبے سے وابستہ رہنے والے ماہر ظفر مرزا نے سیاست سے بالاتر ہوکر ان کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ان کے مؤقف کو کسی حد تک درست قرار دیا ہے۔
ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال ڈاکٹر یا پبلک ہیلتھ کے ماہر نہیں، لیکن انہوں نے مختصر عرصے میں پاکستان کے نظام صحت کے بنیادی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور ان پر کھل کر بات کررہے ہیں۔
مؤقف کے مطابق مصطفیٰ کمال نے پمز سانحے کی ذمہ داری قبول کرکے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا، جبکہ ان کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر وزیراعظم نے انہیں استعفیٰ دینے سے روکا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت صحت کے نظام کی اندرونی خرابیوں، تقرریوں میں سیاسی دباؤ اور ادارہ جاتی مسائل کی نشاندہی کررہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف کسی ایک حکومت کی ناکامی نہیں بلکہ مختلف حکومتوں کی مشترکہ اور طویل عرصے سے جاری گورننس کی ناکامی ہے، جس کا حل پالیسی اور ادارہ جاتی دونوں سطحوں پر تلاش کرنا ہوگا۔
مؤقف میں سب سے اہم توجہ بچوں کی اموات کے مسئلے کی جانب دلائی گئی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچے ناکافی اور غیر معیاری طبی سہولیات کے باعث جان سے محروم ہوجاتے ہیں، جو روزانہ ایک ہزار سے زیادہ بچوں کے برابر بنتا ہے۔
سابق وزیر صحت ظفر مرزا کے مطابق یہی پاکستان کے نظام صحت کا اصل اور خاموش المیہ ہے، جس کی سنگینی اور پیچیدگی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی صحت کی ذمہ داری پر رہ چکے ہیں، اسی لیے موجودہ صورتحال میں مصطفیٰ کمال کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی وزیر شدید تنقید کے باوجود کم از کم مسائل پر بات کرنے اور سچ سامنے رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔
















