Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عالمی عدالت کا بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم

بھارت کے پاس سندھ طاس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کے لیے کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا، عالمی عدالت

دی ہیگ میں قائم پرمیننٹ کورٹ آف آربیٹریشن نے قرار دیا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پابندی کا پابند ہے اور کشمیر میں ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام معاہدے کی شرائط کے مطابق محدود کرنا ہوگا۔

عالمی ثالثی عدالت نے پیر کو جاری کیے گئے اہم فیصلے میں واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

عدالت کے مطابق بھارت کے پاس سندھ طاس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کے لیے کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا، اس لیے معاہدے کی شقیں دونوں ممالک پر لاگو رہیں گی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے علاقے میں جاری ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں سے متعلق کام سندھ طاس معاہدے کی متعین حدود اور شرائط کے مطابق ہونا چاہیے۔

ثالثی عدالت نے مزید قرار دیا کہ ہمالیائی خطے میں پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں، اس معاملے کا جائزہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانبدار ماہر لے گا۔

غیر جانبدار ماہر کو اس حوالے سے فیصلہ کرنے کی مہلت جولائی 2027 تک دی گئی ہے جس کے بعد منصوبوں سے متعلق معاہدے کی مطابقت کا تعین کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں