Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تھری ڈی پرنٹر سے کنکریٹ کی تیاری اب ہوئی آسان

یہ صرف تین دن میں 17 میگاپاسکل کی طاقت حاصل کر لیتا ہے، جو رہائشی ساختی کنکریٹ کی ضروری طاقت ہے

تھری ڈی پرنٹنگ کی ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کے منازل طے کر رہی ہے اور اب بڑے تھری ڈی پرنٹرز سے عمارتیں بھی بنائی جا رہی ہیں۔

اگرچہ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے کنکریٹ کے گھروں کی تعمیر میں کافی تیزی آئی ہے لیکن اس کے باوجود کنکریٹ کے مکمل طور پر پکنے میں 28 دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، ایک نیا پرنٹر اسے صرف تین میں تیار کرسکتا ہے۔

یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ کنکریٹ تین اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے پانی، ریت یا بجری، اور سیمنٹ جو ان سب کو جوڑتا ہے۔ سیمنٹ وہ جزو ہے جو عام طور پر لگ بھگ ایک مہینے تک پکنے میں وقت لیتا ہے۔ اور اس کی آہستہ پکنے کا وقت سیمنٹ کا واحد مسئلہ نہیں ہے۔

روایتی پورٹ لینڈ سیمنٹ کو چونے پتھر اور دیگر خام مال کو پیس کر بنایا جاتا ہے، پھر اس پاؤڈر کو 1,450 سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت تک گرم کیا جاتا ہے، تاہم حرارت پیدا کرنے کا یہ عمل بہت زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتا ہے۔

یہاں تک کہ جب چونے کے پتھر کو حرارت کی مدد سے سیمنٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے جسے کیلسی نیشن کے عمل کے نام سے جانا جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار خارج ہوتی ہے،  اور یہ انسانوں کی طرف سے خارج ہونے والی تمام گرین ہاؤس گیسوں کے مقابلے میں کہیں زیا دہ ہے، یہی وہ عمل ہے جہاں نیا تھری ڈی پرنٹ اس مسئلے کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔

یہ مٹیریل اویگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈیون روچ، ڈاکٹریٹ کے طالب علم نکولس گونسالوس اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر مٹی، ہیملپ فائبرز، ریت اور بایوچار شامل ہیں۔

 بایوچار ایک ایسا چارکول نما مٹیریل ہے جو ایک عمل ’’پایرو لائسز‘‘ کے ذریعے پیدا کیا جاتا ہے، جس میں حرارت کا استعمال کر کے لکڑی کے ٹکڑے اور دیگر نامیاتی مواد کو آکسیجن کی موجودگی میں تجزیہ کیا جاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ پورٹ لینڈ سیمنٹ کے بجائے، نئے مٹیریل میں ایکریلامائیڈ پر مبنی بائنڈنگ ایجنٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کیمیکل ردعمل کو ’’فرنٹل پالیمرائزیشن‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں یہ ایجنٹ مکسچر کو پرنٹنگ نوزل سے نکالنے کے فوراً بعد پکنے کے عمل کو شروع کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ بغیر کسی سپورٹ کے خلا پر پرنٹ کیا جا سکتا ہے، جیسے کھڑکیاں بنانے کے لیے کھڑکیوں کے اوپر کے حصے۔

پرنٹ کیا گیا مواد پرنٹنگ کے فوراً بعد 3 میگاپاسکل کی تعمیراتی طاقت حاصل کر لیتا ہے، جو متعدد تہہ والی دیواروں اور آزاد کھڑے اوور ہینگ جیسے چھتوں کی تعمیر کو ممکن بناتا ہے۔

یہ صرف تین دن میں 17 میگاپاسکل کی طاقت حاصل کر لیتا ہے، جو رہائشی ساختی کنکریٹ کی ضروری طاقت ہے، جب کہ روایتی سیمنٹ پر مبنی کنکریٹ کو یہ طاقت حاصل کرنے میں 28 دن تک لگ جاتے ہیں۔

اگرچہ یہ تین دن میں اس قابل ہوجاتا ہے کہ اسے تعمیرمیں استعمال کیا جاسکے، تاہم اسے مکمل طور پر پکنے  8 سے 10 دن لگ جاتے ہیں اس طرح اس کی طاقت 40 میگاپاسکل سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔

سائنسدان اب اس مواد کی قیمت کو کم کرنے پر کام کر رہے ہیں، کیونکہ یہ روایتی سمینٹ کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہے۔