گوگل نے اپنی سرچ سروس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت روایتی سرچ بار کو مکمل طور پر نئے انداز میں پیش کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ گزشتہ 25 برسوں میں سرچ انجن میں سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔
اس نئے نظام میں گوگل کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت دی جارہی ہے تاہم اعلان کے فوری بعد صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر تنقید کی جارہی ہے۔
Today we are starting to roll out the biggest upgrade to the Google Search box in over 25 years — now completely reimagined with AI, along with Gemini 3.5 Flash as the new default model for AI mode users globally! pic.twitter.com/sBh1jaCjLh
— Logan Kilpatrick (@OfficialLoganK) May 19, 2026
صارفین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت بعض اوقات غیر مصدقہ معلومات کو درست کے طور پر پیش کرسکتی ہے۔
کئی صارفین نے اس نئے فیچر کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اس سے الگ رہنے کا اختیار دیا جائے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد افراد نے کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ سرچ کے روایتی طریقے کو برقرار رکھا جائے اور ہر چیز میں مصنوعی ذہانت کو شامل نہ کیا جائے۔
بعض صارفین نے یہاں تک دھمکی دی ہے کہ اگر یہ تبدیلی نافذ کی گئی تو وہ متبادل سرچ انجنز کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے معلومات حاصل کرنا بظاہر آسان لگتا ہے تاہم اس ٹیکنالوجی میں غلط معلومات کی ترسیل کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے نظام اکثر عوامی سطح پر دستیاب معلومات کو بغیر مکمل تصدیق کے پیش کرسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گوگل اپنے نئے نظام میں معلومات کے ساتھ ذرائع بھی فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن زیادہ تر صارفین ان حوالہ جات کو چیک نہیں کرتے اور براہ راست نتائج پر انحصار کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ اس تبدیلی پر ماحولیاتی خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں پانی اور توانائی کی بڑی مقدار خرچ ہوتی ہے جس سے ماحولیاتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال بڑھا تو یہ قدرتی وسائل پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے جس سے عالمی سطح پر پانی کی کمی جیسے مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس صورتحال کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ بحث شدت اختیار کرگئی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت واقعی مستقبل کا درست راستہ ہے یا اس کے اثرات مزید مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔




















