چین نے امریکا کی جانب سے کیوبا کے سابق رہنما راول کاسترو پر قتل اور سازش کے الزامات کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیوبا کے خلاف دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کرے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکون نے کہا کہ امریکا کو ہر موقع پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دینے اور ’’جبری اقدامات‘‘ سے گریز کرنا چاہیے۔ امریکا کی جانب سے عدالتی اور پابندیوں کے نظام کو دباؤ کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔
یاد رہے کہ چین کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی عدالت نے 1996 میں پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو اور دیگر افراد پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

اس واقعے میں دو طیاروں کی تباہی کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں امریکی شہری بھی شامل تھے۔
چینی ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا کو کیوبا کے خلاف یکطرفہ پابندیاں ختم کرنی چاہئیے اور کسی بھی بیرونی دباؤ سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین کیوبا کی خودمختاری، وقار اور قومی سلامتی کے تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے کیوبا پر دباؤ میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے جب کہ اس سے قبل بھی کئی اقتصادی پابندیاں اور اقدامات کیے جاچکے ہیں جن کے باعث کیوبا کو توانائی اور خوراک کے بحران کا سامنا ہے۔
کیوبا کی حکومت نے ان الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ یہ کارروائیاں قانونی بنیاد سے محروم ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیشرفت سے امریکا اور کیوبا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جب کہ چین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ کیوبا کے خلاف کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف ہے۔




















