Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کانگو، ایبولا وائرس سے ہلاک شخص کی لاش واپس نہ کرنے پر مشتعل افراد نے طبی مرکز جلا دیا

غیر محفوظ تدفین وائرس کے مزید پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے، حکام

مشرقی کانگو کے شہر بونیا کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک مقامی شخص کی لاش واپس نہ ملنے پر مشتعل افراد نے ایبولا علاج مرکز کو آگ لگا دی۔ واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

عینی شاہدین اور پولیس حکام کے مطابق صورتحال اس وقت بگڑی جب ایبولا سے ہلاک ہونے والے شخص کی لاش کی واپسی سے روکنے پر مقامی افراد مشتعل ہوگئے اور احتجاج شدت اختیار کرتے ہوئے مرکز کو نذرِ آتش کر دیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم مقامی روایات اور تدفین کے طریقہ کار اکثر ان طبی ہدایات سے ٹکرا جاتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق ایبولا سے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں انتہائی متعدی ہوتی ہیں اور غیر محفوظ تدفین وائرس کے مزید پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے اسی لیے حکام بعض اوقات لاشوں کی محفوظ تدفین پر مجبور ہوتے ہیں جس پر مقامی سطح پر احتجاج سامنے آتا ہے۔

علاقہ پہلے ہی مسلح تنازعات اور نقل مکانی کے بحران کا شکار ہے، جس کے باعث صحت کا نظام مزید دباؤ میں ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف ایتوری صوبے میں 9 لاکھ سے زائد افراد اندرونی طور پر بے گھر ہیں، جبکہ بنیادی طبی سہولیات بھی شدید محدود ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق عالمی سطح پر پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے تاہم علاقائی سطح پر صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے خصوصاً یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحدی پٹی میں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور مؤثر نگرانی ہی اس وائرس کو قابو میں رکھنے کا واحد راستہ ہے، مگر کمزور انفراسٹرکچر اور امداد میں کمی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں