امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، پاکستان، قطر، مصر اور اردن سمیت متعدد مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے ہوئے ابراہم معاہدوں میں شامل ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے ابراہم معاہدوں کا دائرہ مزید وسیع کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں ان کی متعدد مسلم رہنماؤں سے بات چیت ہوئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ان رہنماؤں میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترک صدر رجب طیب اردگان اور اردن کے شاہ شامل ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت جاری ہے اور اگر تہران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ پورے خطے کے لیے اہم تبدیلی ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بہترین معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا‘‘۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوسکا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، اسی لیے امریکا فوری سفارتی اقدامات پر توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے اپنے نمائندوں کو اس حوالے سے فوری سفارتی رابطے بڑھانے کی ہدایت بھی جاری کردی۔
امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مزید مسلم ممالک کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرق وسطیٰ میں نئے سفارتی دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ ابراہم معاہدے 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران طے پائے تھے جن کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔


















