امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے جس کے نتیجے میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے جاری کردہ بیان کے مطابق کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی اور شہری بحری جہازوں کو درپیش مبینہ خطرات کا سدباب کرنا ہے۔ امریکی افواج نے ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں واشنگٹن آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی صدر اور کمانڈر ان چیف کی ہدایات کے تحت کی جا رہی ہیں جن کا مقصد خطے میں امریکی مفادات اور بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
At 5 p.m. ET today, U.S. Central Command forces began launching more strikes against Iran to continue degrading their ability to attack civilian mariners and commercial ships freely transiting the Strait of Hormuz. The Commander in Chief has directed the strikes to hold Iranian…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 12, 2026
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں تاہم فوری طور پر دھماکوں کی نوعیت، ہدف یا ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال ایران کی جانب سے امریکی کارروائیوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔




















