Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ججز کو جذبات نہیں، قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے، وفاقی آئینی عدالت

ججز پر لازم ہے کہ وہ بلاخوف و امتیاز آئین و قانون کے مطابق فیصلے کریں

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا ہے کہ عدالتیں ذاتی اخلاقیات، ہمدردی یا جذبات کی بنیاد پر قانون کی جگہ نہیں لے سکتیں۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق ججز پر لازم ہے کہ وہ بلاخوف و امتیاز آئین و قانون کے مطابق فیصلے کریں۔

وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس میں ایک طالبعلم کو اسپیشل/سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت دی گئی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں ایسے امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت سے سندھ حکومت کو بڑا ریلیف، ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالتی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل میں ہے۔ ججز نجی افراد نہیں بلکہ غیرجانبدار منصف ہوتے ہیں اور ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔ پاکستان افراد کے نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں اور انہیں آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار حاصل ہے۔ ہائی کورٹس صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو، جبکہ آرٹیکل 187 کے تحت ہمدردی یا وسیع اختیارات (اگر موجود ہوں) صرف سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہیں۔

کیس کے حقائق کے مطابق شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے اور طبی وجوہات کی بنا پر سپلیمنٹری امتحان بھی مس ہو گیا۔

طالبعلم نے وائس چانسلر کو دو درخواستیں دیں جو مسترد کر دی گئیں، جس کے بعد انہوں نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے اس مقدمے میں 18 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔