Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ٹینڈر اشتہار میں غیر ظاہر شرائط کی بنیاد پر لاگت سے اضافی رقم مانگنا غیر قانونی قرار

عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اتھارٹی کی اپیل خارج کر دی۔

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ٹینڈر اشتہار میں غیر ظاہر شرائط  شدہ کی بنیاد پر لاگت سے اضافی رقم مانگنا غیر قانونی قرار دے دیا۔

جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل کے بعد  اپنا پہلا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ، جس میں کہا گہا کہ ٹینڈر اشتہار میں غیر ظاہر شدہ شرائط کی بنیاد پر اضافی سیکیورٹی مانگنا غیر قانونی اور من مانی ہے۔

عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اتھارٹی کی اپیل خارج کر دی۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے کمپنی کی درخواست پر اتھارٹی کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا، جس پر فرنٹیئر ہائی وے اتھارٹی نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ججز کو جذبات نہیں، قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے، وفاقی آئینی عدالت

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی، جس کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی نے مئی 2011 میں سڑک کی تعمیر کے لیے ٹینڈر کا اشتہار جاری کیا تھا ۔ میسرز برادرز کنسٹرکشنز نامی کمپنی اس بولی میں 138.65 ملین روپے کی لاگت پر کامیاب ہوئی  اور کمپنی نے طے شدہ ریٹس کے مطابق 2 فیصد بیعانہ یعنی 2.773 ملین روپے جمع کروا دیے تھے ۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید بتایا کہ بعد ازاں اتھارٹی نے ایک انجینئر تخمینے کا حوالہ دے کر کمپنی سے 8 فیصد اضافی سیکیورٹی مانگ لی ، جس پر کمپنی نے اضافی رقم دینے سے انکار کیا تو اتھارٹی نے ان کی بولی مسترد اور بیعانہ ضبط کر لیا ۔ ساتھ ہی اتھارٹی نے کمپنی پر 6 ماہ کی پابندی لگاتے ہوئے اسے بلیک لسٹ کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ جس انجینئر تخمینے پر اضافی رقم مانگی گئی اس کا ذکر اشتہار میں نہیں کیا گیا تھا ۔ اشتہار میں دی گئی لاگت سے ہٹ کر رقم مانگنا شفافیت کے خلاف ہے۔ پوشیدہ شرائط کی بنیاد پر اضافی سیکیورٹی کا مطالبہ کرنا ایک من مانی کارروائی ہے ۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹینڈر بولی شروع ہونے کے بعد قوانین بدلنا اصولوں کے منافی ہے ۔

متعلقہ خبریں