Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وفاقی آئینی عدالت میں بڑے کیسز کی سماعت، کئی اہم فیصلے اور ریمارکس

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت میں سندھ پولیس اراضی، شوگر ملز، نیب کیسز اور انور سیف اللہ خان کی سزا سے متعلق کیس کی سماعتیں ہوئی جس میں اہم فیصلے اور ریمارکس دیے گئے۔

آئینی عدالت میں سندھ پولیس کی اراضی کے مبینہ غیرقانونی استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو آئندہ ہفتے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا گیا جبکہ پولیس کی عمارت میں قائم دکانیں خالی کرانے سے روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ سندھ پولیس کو زمین ایک مخصوص مقصد کے لیے دی گئی تھی مگر اس کا استعمال کسی اور مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے سرکاری اراضی کے استعمال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اصل مالک کی ملکیت ہی ختم ہو جائے تو رہائشیوں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔

 سماعت کے دوران بغیر نام لیے ”ون کانسٹیٹیوشن ایونیو“ کا بھی حوالہ دیا گیا۔

فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اختیار کیا کہ حیدرآباد اور کراچی کی اراضی ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس کا حصہ نہیں تھیں اور سندھ ہائی کورٹ نے درخواست سے ہٹ کر فیصلہ دیا۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کا حکم پورے سندھ سے متعلق ہے اور اگر حیدرآباد یا لاڑکانہ میں زمینوں کے غلط استعمال کے شواہد سامنے آئے تو کیا دکانیں خالی کرانے کی ضمانت دی جا سکتی ہے؟

دکانداروں کے وکیل نے یقین دہانی کروائی کہ عدالت کے حکم پر عمل کیا جائے گا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

انور سیف اللہ خان کی سزا کالعدم قرار

دوسری جانب سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 2000 میں دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے 20 جنوری 2016 کا اکثریتی فیصلہ بھی ختم کر دیا۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے انور سیف اللہ خان کی نظرثانی درخواست منظور کر لی اور لاہور ہائی کورٹ کا 13 جون 2002 کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کو ماضی کے کسی فعل پر اس وقت نافذ قانون سے زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی اور 1996 کے الزامات پر 1999 کے نیب آرڈیننس کا اطلاق آئین کے آرٹیکل 12 کے منافی تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ رشوت، ذاتی فائدے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا جبکہ محض انتظامی بے ضابطگی مجرمانہ بدنیتی ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

شوگر ملز کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل

ادھر وفاقی آئینی عدالت نے حسیب وقاص شوگر ملز کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر عبداللہ شوگر ملز کی جائیدادیں قرق نہ کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا اور شوگر ملز کو حکم دیا کہ تاحکم ثانی اپنی جائیدادیں فروخت نہ کریں۔

عدالت نے پنجاب حکومت کی اپیل پر شوگر ملز کو نوٹس بھی جاری کر دیا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز نے مؤقف اختیار کیا کہ حسیب وقاص شوگر ملز اور عبداللہ شوگر ملز نے کسانوں اور نیشنل بینک کی ادائیگیاں نہیں کیں۔

انہوں نے بتایا کہ کین کمشنر نے حسیب وقاص شوگر ملز کے ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈرز کی جائیدادیں قرق کرنے کا حکم دیا تھا جس میں عبداللہ شوگر ملز کی جائیدادیں بھی شامل کر لی گئی تھیں۔

 بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے قرقی کا حکم کالعدم قرار دیا جسے پنجاب حکومت نے چیلنج کر رکھا ہے۔

کرپشن کیس

اسی دوران کرپشن کیس میں رضاکارانہ طور پر واپس کی گئی رقم کی واپسی سے متعلق اپیل کی سماعت میں آئینی عدالت نے نیب ترامیم کے ماضی سے اطلاق پر اہم آبزرویشنز دیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ان کے مؤکل سے دباؤ ڈال کر رقم وصول کی گئی تھی اور نیب ترامیم کے تحت یہ رقم واپس ہونی چاہیے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیس 2015 کا ہے جب کہ نیب قانون میں ترامیم آٹھ سال بعد ہوئیں اس لیے سوال یہ ہے کہ نئی ترامیم کا اطلاق ماضی پر کیسے کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزم پہلے رقم ادا کر چکا ہے اور اب اس کی واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ نیب عدالت بھی رضاکارانہ واپسی کی منظوری دے چکی ہے۔

وکیل نے بتایا کہ ملزم حسین اللہ کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی میں تعینات تھا اور اس پر غیرقانونی لیز کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام تھا۔