ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل کا اعلان کیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عسکری قیادت کی جانب سے کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج امریکی حملوں کا بھرپور اور تباہ کن جواب دیں گی۔
ایرانی فوجی کمان کے مطابق آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے تعین کا اختیار صرف تہران کے پاس ہے اور اس معاملے میں کسی بھی امریکی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملے اور ایران کی تیل کی برآمدات پر پابندیاں مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دھونس، دباؤ اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا ہے اور ایران کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
باقر قالیباف نے مزید کہا کہ لبنان میں اسرائیلی حملے بھی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔

















