امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک معاہدہ چاہتا ہے، ایران کے معاملے پر بہت وقت ضائع کیا اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔
انقرہ میں نیٹو سیکریٹری جنرل کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اب ختم ہو چکی ہے اور ایران کے معاملے پر کافی وقت ضائع کیا جا چکا ہے اب امریکا کو اپنا کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو کو سب سے زیادہ مالی معاونت امریکا فراہم کرتا ہے جبکہ یوکرین کو بچانے کے لیے بھی امریکا نے اربوں ڈالر خرچ کیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ امریکا کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، اسپین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کو نیٹو کی ضرورت نہیں بلکہ نیٹو کو امریکا کی ضرورت ہے۔ ایران کے معاملے پر نیٹو نے امریکا کی مدد نہیں کی اور نیٹو امریکا کا مشکل ترین شراکت دار ثابت ہوا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ نیٹو سیکریٹری جنرل کے ساتھ ان کے تعمیری مذاکرات ہوئے جن میں ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی نیوی اور فوج کو ختم کر دیا گیا ہے، ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔

















