عوام پر ایک اور بڑا معاشی دباؤ بڑھ گیا ہے، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے مئی کے لیے ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
اوگرا کے مطابق سوئی سدرن سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 3.51 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 16.04 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہو گئی ہے۔
اسی طرح سوئی ناردرن سسٹم کے لیے بھی قیمت میں 3.43 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 16.98 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر قیمتوں میں اضافہ 28 فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے گھریلو اور صنعتی صارفین پر مزید مالی دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں تاخیر کے باعث مئی کے نرخ طے کرنے میں غیر معمولی وقت لگا جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
توانائی ماہرین کے مطابق ایل این جی مہنگی ہونے سے بجلی اور گیس کے پیداواری اخراجات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہ راست عوام تک منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔
















