پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت صوبائی اسمبلی کے ارکان کو نئی مراعات دی گئی ہیں۔ ان میں ارکان اور ان کی شریک حیات کے لیے تاحیات سرکاری پاسپورٹ، اسلحہ لائسنس، گرفتاری سے خصوصی تحفظ اور دیگر سہولتیں شامل ہیں۔
یہ قانون دو ماہ قبل منظور ہوا تھا تاہم اس کی تفصیلات حال ہی میں سامنے آنے پر عوامی سطح پر تنقید شروع ہوگئی ہے۔
بول ٹی وی پشاور کے بیورو چیف ظاہر شاہ شیرازی کے مطابق خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کو 30 اپریل کو اسمبلی نے منظور کیا، 6 مئی کو گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس پر دستخط کیے اور اگلے روز اسے سرکاری گزٹ میں شائع کردیا گیا لیکن نہ تو قانون اور نہ ہی گزٹ نوٹیفکیشن اسمبلی کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان مراعات، خصوصاً سرکاری پاسپورٹ سے متعلق خبروں کی تردید کرتے رہے تاہم اب توقع ہے کہ وہ اور پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی پریس کانفرنس میں اس قانون کا دفاع کریں گے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی منظوری سے متعلق گردش کرنے والی تمام خبریں جھوٹی، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔پاسپورٹ جاری کرنا مرکزی حکومت کا ڈومین ھے ۔
صوبائی اسمبلی کے اراکین اور کابینہ کے ارکان پہلے سے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی قانونی مراعات…
— Shafi Jan (@ShafiJanPTI) July 7, 2026
نئے قانون کے تحت 1988 کا پرانا قانون ختم کردیا گیا ہے اور اس کی جگہ ارکان اسمبلی کو مزید اختیارات، استثنیٰ اور مراعات دی گئی ہیں۔
قانون کے مطابق ہر رکن اسمبلی کو کسی بھی سرکاری ریسٹ ہاؤس یا سرکٹ ہاؤس میں تین دن تک مفت قیام کی سہولت ملے گی۔ ہر رکن کو آٹھ غیر ممنوعہ اسلحہ لائسنس دیے جائیں گے جن میں سے چار تاحیات مفت جب کہ چار فیس کے ساتھ جاری کیے جائیں گے۔
ارکان اسمبلی تمام ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے، اپنی ذاتی گاڑی پر ’’ایم پی اے‘‘ کی تختی لگاسکیں گے، ملک بھر کے ایئرپورٹس پر وی آئی پی لاؤنج استعمال کرسکیں گے اور سیاہ شیشوں والی گاڑیاں بھی استعمال کرسکیں گے۔
قانون میں یہ بھی درج ہے کہ ہر رکن اسمبلی کو سرکاری پاسپورٹ دیا جائے گا اور یہی سہولت ان کی شریک حیات کو بھی تاحیات حاصل ہوگی تاہم اس کا اطلاق وفاقی قوانین کے مطابق ہوگا۔ ارکان کی شریک حیات کو اسمبلی کا شناختی کارڈ بھی جاری کیا جائے گا۔
مزید یہ کہ ارکان اسمبلی کو جسٹس آف دی پیس کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے جس کے تحت وہ جیلوں، اسپتالوں اور دیگر سرکاری اداروں کا دورہ کرکے ان کے انتظامات کا جائزہ لے سکیں گے۔
قانون کے مطابق ارکان اسمبلی کو اپنی مدتِ رکنیت کے دوران ’’بی کیٹیگری‘‘ سکیورٹی فراہم کی جائے گی جسے خطرے کی صورت میں ’’اے کیٹیگری‘‘ تک بڑھایا جاسکے گا۔ ان کے سیکیورٹی اہلکار پاکستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی اسلحہ ساتھ رکھ سکیں گے۔
نئے قانون کے تحت ارکان اسمبلی کو قانونی تحفظ بھی دیا گیا ہے۔ انہیں احتیاطی حراست میں نہیں لیا جاسکے گا جب کہ کسی فوجداری مقدمے میں گرفتاری کے لیے اسپیکر کی پیشگی اجازت ضروری ہوگی۔
اسی طرح اسمبلی اجلاس یا کمیٹی اجلاس کے دوران ارکان کو عدالت میں پیش ہونے سے استثنیٰ حاصل ہوگا، ان کی تنخواہ اور مراعات عدالتی فیصلے کے تحت ضبط نہیں کی جاسکیں گی جب کہ اسمبلی یا کمیٹی میں کی گئی تقریر یا بیان پر ان کے خلاف کوئی دیوانی یا فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا جاسکے گا۔
قانون کے تحت ایک عدالتی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی جو اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی کے مقدمات کی سماعت کرے گی۔
اگر کوئی شخص کسی رکن اسمبلی کی توہین کرے یا اسمبلی کی کارروائی سے متعلق توہین آمیز یا ہتک آمیز رپورٹ شائع کرے تو اسے چھ ماہ تک قید یا 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔
یہ قانون اسی روز منظور کیے گئے تین قوانین میں شامل تھا جن میں ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق قانون اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی مراعات سے متعلق قانون بھی شامل ہیں۔
جب ان قوانین کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں تو عوامی سطح پر شدید بحث شروع ہوگئی۔ ناقدین نے ٹول ٹیکس سے استثنیٰ، سرکاری پاسپورٹ، اسلحہ لائسنس اور مفت رہائش جیسی سہولتوں پر سوالات اٹھائے اور انہیں صوبے کی موجودہ ضروریات کے برعکس قرار دیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان سہیل آفریدی نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی نے ارکان یا ان کی شریک حیات کے لیے بلیو پاسپورٹ کی منظوری نہیں دی اور نہ ہی صحافیوں کو چھ ماہ قید کرنے سے متعلق کوئی قانون منظور کیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ جاری کرنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے تاہم قانون کے متن میں سرکاری پاسپورٹ کی شق موجود ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی مؤقف نہیں دیا۔


















