چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں واقع چونگ چھنگ ایسٹ ریلوے اسٹیشن کو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن ہونے اعزاز حاصل ہے اس حیران کن اسٹیشن کا کل رقبہ 12 لاکھ 20 ہزار مربع میٹر ہے یعنی اس میں تقریباً 170 فٹ بال کے میدان سما سکتے ہیں۔
چین حالیہ برسوں میں اپنی عظیم الشان تعمیرات اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر رہا ہے اور چونگ چنگ ایسٹ ریلوے اسٹیشن اسی سلسلے کی ایک نمایاں مثال ہے۔
یہ شاندار ریلوے اسٹیشن انفراسٹرکچر کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔ یہ نیویارک کے گرینڈ سینٹرل اسٹیشن سے تقریباً چھ گنا اور یورپ کے سب سے بڑے ریلوے اسٹیشن، جرمنی کے لیپزگ ہاؤپٹ بانہوف سے تقریباً 15 گنا بڑا ہے۔ اس کا رقبہ بعض چھوٹے قصبوں سے بھی زیادہ ہے بلکہ یہ ویٹی کن سٹی کے رقبے سے بھی دو گنا سے زیادہ بڑا ہے۔
اس ریلوے اسٹیشن میں 29 پلیٹ فارم، 15 ریلوے ٹریکس اور آٹھ منزلوں پر مشتمل ایک بہترین ڈھانچہ موجود ہے، جس کی چھت 16,500 ٹن وزنی اسٹیل ٹیوب ٹرس سے تیار کی گئی ہے۔ اس کے 400 میٹر طویل پلیٹ فارم اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ وہ مصروف اوقات میں فی گھنٹہ 16,000 مسافروں کو سنبھالنے کے ساتھ چین کی سب سے طویل ہائی اسپیڈ ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے بھی موزوں ہے۔
اس منصوبے کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ ریلوے اسٹیشن بنیادی طور پر ایک پہاڑ کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ تعمیرات شروع کرنے سے قبل مزدوروں نے پہاڑ کے ایک بڑے حصے کو کاٹ کر زمین کو ہموار کیا اس عظیم منصوبے کی تعمیر میں تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر کنکریٹ، 3 لاکھ 66 ہزار ٹن اسٹیل استعمال کیا گیااس کے علاوہ 40 ہزار تک مزدوروں اور جدید روبوٹک مشینری نے اس منصوبے کو مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا کا یہ سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن صرف 38 ماہ (تقریباً 3 سال اور 2 ماہ) کی مختصر مدت میں مکمل کر لیا گیا۔
اگرچہ 38 ماہ سننے میں زیادہ لگ سکتے ہیں، لیکن اتنے بڑے منصوبے کے لیے یہ غیر معمولی طور پر کم وقت ہے۔ بہت سے ممالک میں تو اس نوعیت کے منصوبے کی منظوری حاصل کرنے میں ہی اس سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔


















