امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری پر رضامندی ظاہر کی تھی تاہم مذاکرات کے بعد صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہوا ہے۔
امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق یہ کھلی ہوئی ہے، حقیقت کیا ہے؟
ٹرمپ نے جواب دیا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سینیٹر لنزے گراہم کے احترام میں اس معاملے پر زیادہ گفتگو نہیں کرنا چاہتے اور مزید کوئی بات نہیں کریں گے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران پر “بدترین بمباری” کی۔ انہوں نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بیمار ذہنیت رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے گزشتہ روز ایک ڈیل پر رضامندی ظاہر کی تھی اور ایٹمی پروگرام سے دستبرداری پر اتفاق کیا تھا تاہم ان کے بقول مذاکرات کے بعد ایک گھنٹے کے اندر جہاز پر ڈرون حملہ ہوگیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ جہاز رانی کے تحفظ کے لیے امریکی افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔ سینٹ کام کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا اور سمندری آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
سینٹ کام نے الزام عائد کیا کہ ایران بلاجواز جارحیت، دھمکیوں اور یکطرفہ اعلانات کے ذریعے خطے میں دباؤ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔



















