اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری جامعات میں تقرریوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے کراچی یونیورسٹی کی اپیل منظور کرلی اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف انکوائری اور امتحانات میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز روکنے کا سندھ ہائیکورٹ کا حکم معطل کر دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیل ہونے والے امیدواروں کو کے پیپر دوبارہ چیک کرنے کا حکم بھی معطل کیا اور سندھ پبلک سروس کمیشن کی اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
سماعت کے دوران جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائی کورٹ نے عبوری حکم نامہ میں حتمی ریلیف دے دیا ہے۔
کمیشن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق درخواست میں کی گئی استدعا سے بڑھ کر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، سندھ ہائیکورٹ نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
دوسری جانب ناکام امیدواروں کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کرپشن اور اقربا پروری کا گڑھ ہے، سندھ ہائی کورٹ ماضی میں پبلک سروس کمشن کو ختم کرنے کا حکم دے چکی ہے، نئے رولز بنا کر پبلک سروس کمیشن کو دوبارہ فعال کیا گیا۔
اس پر کمیشن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ عمومی الزامات کا مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں، حافظ احسان کھوکھر
بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کردی۔




















