امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درجنوں ممالک سے امریکا آنے والی اشیا پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر دیے ہیں جس کے بعد عالمی تجارت میں ایک بار پھر بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق یورپ، چین، بھارت سمیت تقریباً 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔ یہ محصولات جمعہ کی صبح سے نافذ العمل ہوگئے جبکہ متاثرہ ممالک سے آنے والی اشیا امریکا کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 99.4 فیصد بنتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب صدر ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کیا گیا 10 فیصد عمومی ڈیوٹی نظام ختم ہوگیا تھا، جسے امریکی سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے کہا کہ صدر ٹرمپ اپنی تجارتی پالیسی اور مقاصد کو کسی ایک قانونی رکاوٹ کی وجہ سے متاثر نہیں ہونے دیں گے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف کا فیصلہ امریکی تجارتی نمائندے کی کئی ماہ جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کیا گیا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مختلف ممالک سے امریکا برآمد کی جانے والی بعض مصنوعات کی تیاری میں جبری مشقت کا استعمال کیا جاتا ہے اور متعلقہ ممالک اس مسئلے کے حل میں ناکام رہے ہیں۔
یورپی یونین نے نئے امریکی ٹیرف پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے منفی حیرت قرار دیا۔ یورپی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے جبری مشقت سے متعلق امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
سوئٹزرلینڈ نے بھی امریکی الزامات کی مخالفت کی، جبکہ ناروے نے واضح کیا کہ وہ امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
برازیل نے اپنی مصنوعات پر 12.5 فیصد ٹیرف مسترد کرتے ہوئے برابری کی بنیاد پر تجارتی تعلقات کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب میکسیکو کے وزیر معیشت نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے عائد مؤثر ٹیرف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔
آسٹریلیا نے بھی نئے امریکی اقدامات پر اعتراض کیا۔ آسٹریلوی وزیر تجارت ڈان فیرل نے کہا کہ واشنگٹن کا فیصلہ مکمل طور پر بلاجواز ہے اور کینبرا امریکا سے آسٹریلوی مصنوعات پر تمام ٹیرف ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف ان ممالک کی درآمدات پر لاگو ہوں گے جو امریکا کی بیرونی خریداری کا تقریباً تمام حصہ فراہم کرتے ہیں، تاہم تیل، گیس اور ایسی مصنوعات جن کا مقامی متبادل دستیاب نہیں، انہیں بعض استثنیٰ دیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے محصولات کے نفاذ کا وقت اس لیے منتخب کیا گیا تاکہ پہلے سے موجود 10 فیصد ڈیوٹی کے ساتھ اضافی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ ان کے مطابق کاروباری حلقے بھی ٹیرف پالیسی میں تسلسل اور واضح سمت کا مطالبہ کر رہے تھے۔




















