امریکا کی ایران میں فوجی اہداف کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں جزیرہ قشم، بندر عباس اور آہواز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کو جوابدہ بنانا اور پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ ایران پر مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی کارروائیاں کی گئیں جن میں فوجی کمانڈ مراکز، ڈرون تنصیبات اور مواصلاتی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا، ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو درپیش خطرات میں کمی لانا ہے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز معمول کے مطابق سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔
سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ 14 جولائی سے بحری ناکہ بندی کے دوران متعدد تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر آبنائے ہرمز میں 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب جہازوں کی آمدورفت کو محدود کرنا تھا۔




















