یقین کریں یا نہ کریں لیکن بچپن میں اپنائی گئی بہت سی عادتیں ہماری آنے والی زندگی اور صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ لائٹ جلا کر سونا یا ناخن چبانا جیسی بظاہر معمولی عادتیں بھی مستقبل میں جسمانی اور ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کہ بچپن کی کون سی عادتیں آج بھی آپ کی زندگی پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
لائٹ جلا کر سونا

کچھ بچے اندھیرے سے ڈرتے ہیں اور کمرے کی لائٹ جلا کر سونا پسند کرتے ہیں۔ 2018 کی ایک تحقیق کے مطابق اگر یہ عادت بالغ ہونے کے بعد بھی برقرار رہے تو ڈپریشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ناک میں انگلی ڈالنا
2006 میں ہونے والی ایک تحقیق میں 324 افراد کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ناک میں انگلی ڈالنے والے افراد میں نامی بیکٹیریا موجود ہونے کا امکان 51 فیصد زیادہ تھا یہ بیکٹیریا عام طور پر ناک کے اندر پایا جاتا ہے۔
بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا

ماضی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جو بچے بہت زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں، ان کی زبانی (Verbal) ذہانت کے اسکور نسبتاً کم ہو سکتے ہیں۔ ایک اور تحقیق کے مطابق اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے والے بچوں میں نوجوانی کے دوران توجہ کی کمی کے مسائل پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
زیادہ میٹھے مشروبات پینا

بہت زیادہ فروٹ جوس یا میٹھے مشروبات پینے سے دانتوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے اور وزن بڑھنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
انگوٹھا چوسنا

اگرچہ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ عادت اکثر ختم ہو جاتی ہے، لیکن اس کے دیرپا اثرات رہ سکتے ہیں۔ اس سے دانتوں کی ترتیب متاثر ہو سکتی ہے اور منہ کی اوپری چھت (تالو) کی ساخت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
ناخن چبانا

یہ عادت بچوں کے ساتھ ساتھ بہت سے بالغ افراد میں بھی پائی جاتی ہے۔ ناخن چبانے سے دانت خراب ہو سکتے ہیں ناخن بنانے والے ٹشوز کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ناخنوں کے اردگرد جلد میں انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔
غیر فعال طرزِ زندگی

بچپن میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی مستقبل میں بھی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ جو بچے جسمانی طور پر متحرک ہوتے ہیں، ان کے بڑے ہو کر بھی فعال رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
غنڈہ گردی کا شکار ہونا یا دوسروں کو تنگ کرنا

2013 کی ایک تحقیق کے مطابق بچپن میں غنڈہ گردی کا شکار ہونے یا دوسروں کو تنگ کرنے کے تجربات بالغ زندگی میں ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
گھریلو کام کاج کرنا

اگر بچپن میں آپ سے گھر کے کام کروائے جاتے تھے تو شاید وہ اس وقت ناگوار لگتے ہوں، لیکن کتاب ہاؤ تو ریز این اڈلٹ کی مصنفہ جولی لیتھکاٹ ہائمز کے مطابق ایسے بچے بڑے ہو کر زیادہ خودمختار، ہمدرد اور دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے والے افراد بنتے ہیں۔
غصے میں سانس روک لینا

کچھ بچے غصے یا مایوسی کی حالت میں جان بوجھ کر سانس روک لیتے ہیں۔ اگر یہ عادت بار بار ہو تو بے ہوشی، دل کی دھڑکن رکنے یا دیگر سنگین طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کھلونوں کو چبانا یا منہ میں رکھنا

کچھ کھلونوں میں سیسہ (Lead) موجود ہو سکتا ہے، جو بچوں میں لیڈ پوائزننگ کی ایک عام وجہ ہے۔ یہ قلیل اور طویل مدت دونوں میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بچپن میں زیادہ وزن ہونا

زیادہ وزن والے بچوں میں بڑے ہونے پر وزن بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جس سے دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ “اچھا” بننے کی کوشش

چائلڈ ڈیولپمینٹ جریدے میں شائع ایک تحقیق کے مطابق وہ نوجوان جو دوسروں پر اثر ڈالنے کے لیے حد سے زیادہ “کول” بننے کی کوشش کرتے ہیں، ان میں مستقبل میں شراب نوشی اور منشیات کے استعمال کے مسائل پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
بہت بھاری اسکول بیگ اٹھانا

اگر بچپن میں آپ کا اسکول بیگ بہت بھاری ہوتا تھا تو ممکن ہے آج کمر درد کی ایک وجہ یہی ہو۔ 2004 کی ایک تحقیق کے مطابق دائمی کمر درد میں مبتلا بہت سے افراد نے بچپن میں بھی کمر درد یا بھاری بیگ کی شکایت کی تھی۔
منہ اور دانتوں کی ناقص صفائی

2011 میں جرنل آف ڈینٹل ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماں کی زبانی صحت بچوں کی دانتوں کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر ماں دانتوں کی صفائی کا خیال نہ رکھے تو بچوں میں بھی یہی عادت منتقل ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
ٹوتھ پیسٹ نگل لینا

بچوں میں ٹوتھ پیسٹ نگل لینا عام بات ہے۔ اس سے وقتی طور پر پیٹ درد ہو سکتا ہے، لیکن فلورائیڈ والے ٹوتھ پیسٹ کی زیادہ مقدار جسم میں میگنیشیم اور کیلشیم کی سطح متاثر کر سکتی ہے اور دیگر سنگین مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے۔
سگریٹ نوش والدین کے ساتھ پرورش پانا

2005 کی ایک تحقیق کے مطابق جن بچوں کے والدین سگریٹ نوشی کرتے ہیں، ان میں 13 سے 21 سال کی عمر کے درمیان خود سگریٹ نوشی شروع کرنے کے امکانات تقریباً دوگنا ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال

سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال خود اعتمادی میں کمی، ذہنی دباؤ اور ناخوشی کا باعث بن سکتا ہے جس سے ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔
مارکر سونگھنا

تقریباً ہر بچہ کبھی نہ کبھی مارکر سونگھ کر دیکھتا ہے لیکن یہ ایک خطرناک عادت ہو سکتی ہے۔ مارکر سونگھنے سے دل کی پیچیدگیاں پیدا ہونے اور دماغی خلیات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔



















