پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی قومی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزیراعظم کے نیشنل پروگرام برائے خاتمۂ ہیپاٹائٹس سی کے نفاذ کو پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ڈاکٹر اکبر نیاز ی ٹیچنگ اسپتال کو اس قومی پروگرام کا سینٹر آف ایکسیلنس مقرر کر دیا گیا ہے۔
یہ اعلان ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی قومی سیمینار کے دوران کیا گیا جس کا انعقاد وزارتِ قومی صحت، ڈاکٹر اکبر نیاز ی ٹیچنگ ہسپتال، جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل اور دیگر شراکت دار اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔
سیمینار کا افتتاح وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کیا جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال چوہدری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اورخطاب کیا۔
تقریب میں اعلیٰ حکومتی حکام، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندگان، طبی ماہرین، پالیسی ساز، محققین، معالجین، ترقیاتی شراکت داروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے پاکستان کو 2030 تک ہیپاٹائٹس سے پاک بنانے کے قومی ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔
تقریب کے دوران وزیراعظم کے نیشنل پروگرام برائے خاتمۂ ہیپاٹائٹس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء اللہ خان داوڑ نے باضابطہ طور پراکبر نیاز ی ٹیچنگ ہسپتال کو وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت سینٹر آف ایکسیلنس مقرر کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ اکبر نیاز ی ہسپتال کو یہ اہم قومی ذمہ داری اس کے جدید طبی ڈھانچے، معیاری صحت کی سہولیات، مضبوط تشخیصی اورعلاج معالجے کی صلاحیتوں، ماہر طبی عملے اور وسیع مریضوں کے کیچمنٹ ایریا کی بنیاد پر سونپی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتال اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا و پنجاب کے متعدد اہم اضلاع سے آنے والے مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے جس کی وجہ سے یہ قومی سطح کے اس پروگرام کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل اور ڈاکٹر اکبر نیاز ی ٹیچنگ ہسپتال کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر یاسر خان نیازی نے کہا کہ نجی شعبہ حکومت کے ساتھ مل کر ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے قومی مقصد کے حصول میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ معیاری طبی سہولیات، طبی تعلیم، تحقیق، جدت، عوامی آگاہی اور کمیونٹی آؤٹ ریچ کے ذریعے نجی شعبہ ملک میں صحت عامہ کے اہم چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
یاسر خان نیازی نے ڈاکٹر اکبر نیاز ی ٹیچنگ ہسپتال کو سینٹر آف ایکسیلنس مقرر کیے جانے کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے خاتمہ کے لئے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے حکومت، طبی اداروں، تعلیمی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں اور فارماسیوٹیکل صنعت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کا مسلسل تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل اور ڈاکٹر اکبر نیاز ی ٹیچنگ ہسپتال اس قومی مقصد کے لیے اسکریننگ کی سہولیات میں توسیع، بروقت تشخیص، مؤثر علاج، عوامی شعور اجاگر کرنے اور صحت عامہ کی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
سیمینار میں ماہرین نے پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے موجودہ حالات، بیماری سے بچاؤ کی حکمت عملیوں، اسکریننگ اور علاج کی سہولیات کو بہتر بنانے، جدید تشخیصی طریقۂ کار اور علاج میں ہونے والی پیش رفت سمیت ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے سرکاری و نجی شعبے کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
اختتامی کلمات میں سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر عبد الولی خان نے وفاقی وزراء، مقررین، عالمی ادارۂ صحت کے نمائندگان، قومی و بین الاقوامی ماہرین، شراکت دار اداروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے سیمینار کے کامیاب انعقاد میں ڈاکٹراکبر نیاز ی ٹیچنگ ہسپتال، جی اے کے ہیلتھ کیئر، ہورا فارما اورسان شور بائیوٹیک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزارتِ صحت تمام متعلقہ اداروں کے اشتراک سے پاکستان کو ہیپاٹائٹس سے پاک بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
سیمینار کا اختتام ہیپاٹائٹس کی روک تھام، بروقت تشخیص، معیاری علاج تک رسائی اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا تاکہ 2030 تک پاکستان کو ہیپاٹائٹس سے پاک بنانے کے قومی ہدف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔



















